ملائیشین طیارے کے122 ممکنہ ٹکڑوں کی نشاندہی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ملائیشیا کے وزیر ٹرانسپورٹ حشام الدین نے کہا ہے کہ بحرِ ہند کے جنوبی حصے میں جہاں ملائیشیا کی فضائی کمپنی کے لاپتہ طیارے کے ملبے کی تلاش جاری ہے وہاں طیارے کے ممکنہ ملبے کے مزید 122 ٹکڑے دیکھےگئے ہیں جن تک پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں۔

حشام الدین نے بتایا کہ طیارے کےممکنہ ملبے کی تصاویر 23 مارچ کو بنائی گئی تھیں۔ ان ٹکڑوں میں سے بعض کی لمبائی75 فٹ تک ہے۔

ایم ایچ 370 کی تلاش: کب کیا ہوا؟

ملائیشین وزیر نے کہا کہ سیٹیلائٹ سےدیکھے جانے والے یہ ٹکرے چمکدار ہیں جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ دھات کے بنے ہوئے ہیں۔

ملائیشیا کا مسافر طیارہ ایم ایچ 370 آٹھ مارچ کو کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے لاپتہ ہوا تھا اور اس پر 227 مسافر اور عملے کے 12 ارکان سوار تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption موسم میں بہتری کے بعد تلاش دوبارہ شروع ہوئی اور بدھ کو چھ ممالک کے طیارے اس میں شریک ہیں

اس طیارے کے 153 مسافروں کا تعلق چین سے تھا جن میں سے متعدد کے لواحقین اپنے رشتہ داروں کی ہلاکت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ کیونکہ اب تک طیارے کا ملبہ نہیں مل سکا ہے۔

وزیر ٹرانسپورٹ حشام الدین نے کہا کہ لاپتہ طیارے کے ممکنہ ٹکڑے پرتھ سے 2557 کلومیٹر دور سمندر کے دور افتادہ حصے کے 400 مربع کلو میٹر کے علاقے میں دیکھے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ تمام معلومات آسٹریلیا میں قائم ریسکیو سینٹر کے حوالے کردی گئی ہیں۔

آسٹریلیا کی میری ٹائم سیفٹی اتھارٹی (امسا) کا کہنا ہے کہ بدھ کو تلاش کے کام میں 12 طیارے حصہ لے رہے ہیں۔آسٹریلوی میری ٹائم سیفٹی اتھارٹی نے بتایا ہے کہ اب موسم بہتر ہے اور تلاش کا کام جاری ہے۔

’امسا‘ کے مطابق اس وقت تلاش کے عمل میں چھ ممالک آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، امریکہ، جاپان، چین اور جنوبی کوریا کے سات فوجی اور پانچ عام طیارے شریک ہیں۔

ان کے علاوہ آسٹریلیا کی جنگی بحری جہاز ایچ ایم اے یس سکسیس اس علاقے میں تلاشی لے رہا ہے جہاں رواں ہفتے ملبے کے دو ممکنہ ٹکڑوں کی نشاندہی ہوئی تھی۔

ملائیشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق نے پیر کو باقاعدہ طور پر طیارے کی بحرِ ہند میں گر کر تباہی اور اس پر سوار تمام 239 افراد کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں