صدر اوباما کے حفاظتی دستے کے تین اہلکار معطل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تازہ ترین واقعہ صدر اوباما کے ہالینڈ پہنچنے سے قبل پیش آیا تھا: سیکریٹ سروس کے ترجمان ایڈ ڈانوون

امریکی صدر براک اوباما کی حفاظت پر تعینات تین اہلکاروں کو ہالینڈ سے ’انضباطی وجوہات‘ پر واپس امریکہ بھیج دیا گیا ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ ایک اہلکار ایمسٹرڈیم کے ایک ہوٹل کی راہداری میں شراب کے نشے میں بے ہوش پائے گئے۔

صدر اوباما کے حفاظتی ادارے سیکریٹ سروس کی ترجمان نے مزید تفصیلات دینے سے انکار کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ تینوں اہلکاروں کو ’انتظامی تعطیل‘ دے دی گئی ہے۔

سیکریٹ سروس ماضح کے سکینڈلز کے بعد اپنی ساخ کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

2013 میں صدر اوباما کے حفاظتی دستے سے دو اہلکاروں کو جنسی استحصال کے الزامات کی وجہ سے نکال دیا گیا تھا۔

2012 میں بھی اوباما کے حفاظتی دستے میں سے متعدد اہلکاروں کو اس وقت نکال دیا گیا جب انھوں نے کولمبیا میں ایک دورے پر طوائفوں کی خدمات حاصل کیں۔

سیکریٹ سروس کے ترجمان ایڈ ڈانوون نے کہا کہ تازہ ترین واقعہ صدر اوباما کے ہالینڈ پہنچنے سے قبل پیش آیا تھا۔ پیر کے روز ہالینڈ میں صدر اوباما جوہری تونائی کے سلسلے میں سربراہی اجلاس میں شرکت کر رہے تھے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ صدر کے حفاظتی انتظامات پر یہ واقعہ اثر انداز نہیں ہوا۔

واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ تینوں اہلکار صدر کی ’کاؤنٹر اسالٹ ٹیم‘ کا حصہ تھے اور ایک اہلکار ٹیم لیڈر تھے۔

اخبار نے ذرائع کا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایک اہلکار ایک ہوٹل کی راہداری میں شراب کے نشے میں بے ہوش پائے گئے اور ان کی خبر ہوٹل کے عملے نے امریکی سفارتخانے کو دی۔

اسی بارے میں