امریکہ: مٹی کے تودے سے گاؤں تباہ، ہلاکتیں 16 ہوگئیں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مٹی کے 177 فٹ اونچے تودوں نے اس گاؤں کے 30 مکانات کو تباہ کر دیا تھا

امریکہ کی شمال مغربی ریاست واشنگٹن میں حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر کو مٹی کے تودوں تلے دبے دو مزید افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہے جس کے بعد مرنے والوں کی کُل تعداد 16 ہوگئی ہے۔

ریاست واشنگٹن کے شہر سیاٹل کے شمالی میں واقعہ ایک گاؤں مٹی کے تودے تلے دب گیا تھا اور اب اس کے گرد 177 فٹ اونچ مٹی کی دیوار ہے۔

حالیہ مردم شماری کے مطابق سیاٹل سے 90 کلومیٹر دور واقع اوسو نامی اس گاؤں میں 180 افراد رہائش پذیر تھے اور امدادی کارکن اب بھی ان میں سے 100 سے زیادہ افراد کو تلاش کر رہے ہیں۔

مقامی فائر برگیڈ کے چیف ٹریوس ہاٹس نے صحافیوں کو منگل کی شام بتایا کہ ’ہم نے ابھی تک امید نہیں چھوڑی، ہو سکتا ہے کہ ہمیں کوئی زندہ مل جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ ہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے زندہ بچنے کے امکان سے باخبر ہیں لیکن پھر بھی ہم پوری کوششیں جاری رکھیں گے۔

مٹی کے 177 فٹ اونچے تودوں نے اس گاؤں کے 30 مکانات کو تباہ کر دیا تھا۔

حکام نے اس حادثے کی وجہ حالیہ تیز بارشوں کو قرار دیا ہے اور اس میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے ایک 81 سالہ شخص اور ایک شیرخوار بچے کی حالت نازک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عینی شاہد رابن ینگ بلڈ نے سیاٹل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اچانک وہاں کیچڑ کی ایک دیوار تھی اور پھر ہمارا مکان ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔‘

حکام کا خیال ہے کہ کئی لاپتہ افراد مٹی اور گارے کی پانچ میٹر موٹی تہہ تلے اپنی گاڑیوں میں بھی پھنسے ہو سکتے ہیں لیکن ان افراد کو زندہ نکالنے کے امکانات ہر گزرتے لمحے کے ساتھ معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔

امدادی سرگرمیوں کے انچارج جان پیننگٹن نے کہا ہے کہ اگرچہ 108 افراد لاپتہ ہیں لیکن ہم اسے زخمی ہونے یا مرنے والوں کی تعداد قرار نہیں دے سکتے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’108 کی تعداد حتمی نہیں تاہم ہمیں اس ملبے سے اب تک کوئی زندہ نہیں ملا ہے۔‘

اوسو میں مٹی اور گارے نے ایک چوتھائی مربع میل کے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ ایک عینی شاہد نے مقامی اخبار کو بتایا کہ جب تودے گرے تو وہ گاڑی چلا رہے تھے اور انہیں گارے سے بچنے کے لیے اچانک بریک لگانی پڑی۔

پاؤلو فالکو کا کہنا تھا کہ ’مجھے سڑک پر اندھیرا سا چھاتا ہوا محسوس ہوا اور سب کچھ تین سیکنڈ میں ختم ہوگیا۔‘

ایک اور عینی شاہد رابن ینگ بلڈ نے سیاٹل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اچانک وہاں کیچڑ کی ایک دیوار تھا اور پھر ہم لڑھکنے لگے۔ ہمارا مکان ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور ہم ملبے تلے دب گئے اور ہم نے پھر مٹی کھود کر خود کو باہر نکالا۔‘

اسی بارے میں