دنیا میں سزائے موت کے رجحان میں اضافہ

Image caption 2013 میں 57 ممالک میں سزائے موت سنائے جانے کے 1927 معاملات سامنے آئے

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنٹسی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں سزائے موت دیے جانے کی شرح میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

جمعرات کو جاری کی جانے والی اس رپورٹ کے مطابق 2013 میں ادارے کو 22 ممالک میں 778 افراد کو دی جانے والی سزائے موت کے شواہد ملے ہیں۔

سنہ 2012 میں یہ تعداد 682 اور سنہ 2011 میں 680 تھی۔

تنظیم کے مطابق ان نئے اعدادوشمار میں چین میں ’ہزاروں‘ افراد کو دی جانے والی موت کی سزائیں شامل نہیں کیونکہ وہاں اس قسم کی معلومات حکومتی راز تصور کی جاتی ہیں۔

اس کے علاوہ شام اور مصر میں بھی سزائے موت پانے والے افراد کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہو سکی۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ سزائے موت پانے والے افراد کی تعداد میں اضافے کی وجہ ایران اور عراق میں اس سزا پر زیادہ عملدرآمد ہونا ہے جہاں بالترتیب 369 اور 169 سے زیادہ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس فہرست میں تیسرا نمبر سعودی عرب کا ہے جہاں 79 سے زیادہ لوگوں کو سزائے موت ملی جبکہ امریکہ 39 اور صومالیہ 34 سے زیادہ سزائے موت کے واقعات کے ساتھ چوتھے اور پانچویں نمبر پر رہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کے ہر دس ممالک میں سے ایک میں کسی نہ کسی فرد کو موت کی سزا دی گئی اور شمالی کوریا اور صومالیہ سمیت کئی ممالک میں ان سزاؤں پر عملدرآمد عوام کے سامنے ہوا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا میں 23 ہزار سے زیادہ قیدی سزائے موت کے منتظر ہیں۔

ادارے کے اعدادوشمار کے مطابق 2013 میں 57 ممالک میں سزائے موت سنائے جانے کے 1927 معاملات سامنے آئے جبکہ 2012 میں دنیا کے 58 ممالک سے 1722 افراد کو یہ سزا دینے کا حکم دیا گیا تھا۔

جن ممالک میں عدالتوں نے سب سے زیادہ سزائے موت سنائیں ان میں چین پہلے، پاکستان دوسرے اور بنگلہ دیش تیسرے نمبر پر ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سیکرٹری جنرل سلیل شیٹی کا کہنا ہے کہ ’ایران اور عراق جیسے ممالک میں ہم نے ہلاکتوں کا جو سلسلہ دیکھا وہ شرمناک ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’بہت ہی کم ممالک میں بہت بڑے پیمانے پر یہ بلاوجہ کی ہلاکتیں سرانجام دی گئیں۔‘

سلیل شیٹی نے کہا کہ ’سزائے موت ماضی کا قصہ بنتی جا رہی ہے اور ہم اس پر عمل کرنے والی تمام حکومتوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ سزائے موت دینے کا عمل فوراً روک دیں اور اس سزا کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔‘

اسی بارے میں