ترکی میں ٹوئٹر کے بعد یوٹیوب پر بھی پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سوشل میڈیا غلط معلومات پھیلا رہا ہے: طیب اردوگان

ترکی میں عدالت کی طرف سے سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پابندی کے حکومتی حکم کو معطل کیے جانے کے ایک روز بعد حکومت نے یو ٹیوب پر پابندی عائد کر دی ہے۔

ترکی کی ٹیلی کام اتھارٹی(ٹی آئی بی) نے کہا ہے کہ اس نے یوٹیوب کے خلاف کچھ ’انتظامی اقدامات‘ کیے ہیں۔ کچھ اطلاعات کے مطابق حکومت یوٹیوب تک رسائی روکنے پر غور کر رہی ہے۔

ترکی میں کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ ملک میں یوٹیوب تک رسائی کو روکا جا چکا ہے، البتہ کچھ دوسرے صارفین کا کہنا ہے کہ انہیں اب بھی یوٹیوب تک رسائی حاصل ہے۔

اس سے قبل ترک اہلکاروں کی ایک ایسی مبینہ ریکارڈنگ یوٹیوب پر پوسٹ ہوئی جس میں ترک اہلکار شام کی صورتحال پر بات چیت کر رہے ہیں۔

اس آڈیو میں ترک اہلکار شام میں ایک آپریشن کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے سنے جا سکتے ہیں۔اس اجلاس میں ترکی کے وزیرِ خارجہ، فوج کے نائب سربراہ اور انٹیلی جنس کے سربراہ بھی شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس آڈیو ریکارڈنگ کا معائنہ کیا ہے لیکن وہ تصدیق نہیں کر سکتے کہ اصل آڈیو میں جن لوگوں کو سنا جا سکتا ہے وہ واقعی ترکی کے اعلیٰ اہلکار ہیں۔

ترک وزیراعظم رجب طیب اردوگان کہتے رہے ہیں کہ سوشل میڈیا غلط معلومات پھیلا رہا ہے اور سوشل میڈیا سائٹس پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ ترکی میں اتوار کو مقامی انتخابات ہونے ہیں جنھیں وزیراعظم رجب اردوگان کی مقبولیت کا امتحان سمجھا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ترک وزیراعظم نے رواں ہفتے میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھیں سمجھ نہیں آتا کہ سمجھ دار لوگ کس طرح سوشل میڈیا کی ان ویب سائٹس ، فیس بک، یو ٹیوب اور ٹوئٹر کا دفاع کر سکتے ہیں جہاں ہر طرح کا جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے۔

بدھ کے روز انقرہ کی ایک عدالت نے ٹیلی کام اتھارٹی کو حکم دیا تھا کہ وہ ٹوئٹر پر سے پابندی ہٹا لے۔ لیکن اس عدالتی حکم پر عمل درآمد ہونے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

ٹوئٹر نے بھی حکومتی پابندی سے متعلق حکم کو چیلنج کیا ہے۔ ٹوئٹر نے کہا ہے کہ اسے ایک سابق وزیر کے ٹوئٹر اکاونٹ کو بند کرنےسے متعلق عدالتی آرڈر پر تشویش ہے۔

اسی بارے میں