نئے مقام پر لاپتہ طیارے کے ٹکڑوں کی تلاش کا پہلا دن بے نتیجہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جمعے کو نظر آنے والے ٹکڑوں کو اٹھانے کے لیے دو چینی بحری جہاز اس علاقے میں پہنچے ہیں

ملائیشیا ائیر لائن کے لاپتہ بوئنگ 777 کے ملبے کی تلاش کرنے والے ایک چینی اور ایک آسٹریلین بحری جہاز بحرِ ہند میں ایک نئے علاقہ میں تلاش کے کام کے بعد بغیر کسی نتیجے کے ناکام لوٹے ہیں۔

آسٹریلیا کی میری ٹائم اتھارٹی کا کہنا ہے کہ دونوں بحری جہازوں نے بحرِ ہند سے ٹکڑے اٹھائے مگر ان میں سے کسی بھی ٹکڑے کا تعلق ملائیشیا کے لاپتہ طیارے سے ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

چینی طیارے بھی اس علاقے کے اوپر پرواز کرتے رہے ہیں اور انہوں نے مزید ٹکڑے دیکھے ہیں۔

ایم ایچ 370 کی تلاش: کب کیا ہوا؟

آسٹریلیا کی میری ٹائم اتھارٹی کے مطابق چینی اور آسٹیریلوی بحری جہاز نے ’بتایا کہ انہوں نے کئی ٹکڑے سمدر سے اٹھائے ہیں مگر اب تک کسی بھی ٹکڑے کا تعلق ایم ایچ 370 پرواز سے ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔‘

یہ دونوں بحری جہاز ان کئی ٹکڑوں کو اٹھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں جنہیں طیاروں نے جمعے کے دن دیکھا تھا۔

چین کی ژنہوا خبر رساں ادارے کے مطابق چینی طیاروں نے سابقہ تلاش کے علاقے کے شمال مشرق میں نئے ٹکڑوں کی تلاش شروع کی جہاں نئے ٹکڑے ملے۔

ملائیشین ائیرلائنز کی پرواز ایم ایچ 370 طیارہ آٹھ مارچ کو لاپتہ ہوئی تھی۔ اس پر 239 افراد سوار تھے اور 20 دن کی تلاش کے باوجود اب تک اس کا ملبہ نہیں مل سکا ہے۔

چینی بحری جہاز ہاشین 1 اور جنگ گینگشان اس تلاش کے کام میں مصروف ہیں جس پر دو ہیلی کاپٹر بھی موجود ہیں۔

اس سے قبل آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کو جس نئے علاقے میں ملائیشیا کے لاپتہ مسافر طیارے کے ملبے کی تلاش شروع کی گئی تھی وہاں پانچ طیاروں نے مختلف ’ٹکڑوں‘ کی نشاندہی کی ہے۔

Image caption نیوزی لینڈ کی شاہی فضائیہ کے اورائن طیارے کو سب سے پہلے سفید یا ہلکے رنگ کے یہ ٹکڑے دکھائی دیے

ملائیشین ائیرلائنز کی پرواز ایم ایچ 370 طیارہ آٹھ مارچ کو لاپتہ ہوئی تھی۔ اس پر 239 افراد سوار تھے اور 20 دن کی تلاش کے باوجود اب تک اس کا ملبہ نہیں مل سکا ہے۔

آسٹریلیا کی میری ٹائم سیفٹی اتھارٹی (امسا) نے جمعے کی شام ایک بیان میں کہا ہے کہ اس فضائی نشاندہی کی تصدیق کے لیے وہاں سنیچر کو ایک بحری جہاز بھیجا جائے گا۔

امسا نے جمعے کی صبح ہی بتایا تھا کہ طیارے کی تلاش کا عمل اب اس علاقے سے 1100 کلومیٹر دور منتقل کر دیا گیا جہاں اب تک یہ کارروائی جاری تھی۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اس نئے مقام کا تعین ملائیشیا سے ملنے والی’نئی قابلِ بھروسہ معلومات‘ کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

میری ٹائم سیفٹی اتھارٹی کے مطابق نیوزی لینڈ کی شاہی فضائیہ کے اورائن طیارے کو سب سے پہلے ’سفید یا ہلکے رنگ کے ٹکڑے دکھائی دیے‘۔

اس اطلاع کی تصدیق کے لیے اس جگہ پر ایک آسٹریلوی طیارہ بھیجا گیا جس نے ’دو نیلے یا سرمئی رنگ کی مستطیل شکل کے ٹکڑے دیکھے۔‘ اس کے علاوہ تین دیگر طیاروں نے بھی ایسے ہی ٹکڑوں کی نشاندہی کی۔

امسا کا کہنا ہے کہ چین کا گشتی بحری جہاز ہیزون 01 اسی علاقے کے قریب موجود ہے اور اسے سنیچر کو ان ٹکڑوں تک بھیجا جائے گا۔

اس سے قبل میری ٹائم سیفٹی اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’نئی معلومات اس طیارے کے بحیرۂ جنوبی چین اور آبنائے ملاکا کے درمیانی علاقے میں سفر کے دوران ریڈار سے حاصل شدہ معلومات کے جاری تجزیے کی بنیاد پر ملی ہیں۔‘

ادارے کا کہنا ہے ان معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیارہ ماضی کے اندازوں سے زیادہ رفتار سے سفر کر رہا تھا جس کی وجہ سے سے اس کا ایندھن کا استعمال بھی زیادہ تھا اور یوں اس کے بحرِ ہند میں جنوب کی جانب اتنی دور تک پہنچنے کے امکانات نہیں جتنے کہ پہلے تصور کیے جا رہے تھے۔

بیان کے مطابق ’آسٹریلوی حکام نے ان اطلاعات کا تجزیہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ طیارے کے ملبے کے ممکنہ مقام کے بارے میں سب سے قابلِ بھروسہ معلومات ہیں۔‘

امسا کے مطابق انھی معلومات کی بنیاد پر جمعے کو طیارے کی تلاش کا عمل موجودہ علاقے سے شمال مشرق میں 1100 کلومیٹر کے فاصلے پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption طیارے کی تلاش کا عمل جمعے کو شمال مشرق میں 1100 کلومیٹر دور منتقل کر دیا گیا

ادارے نے بتایا ہے کہ یہ نیا علاقہ آسٹریلوی شہر پرتھ کے ساحل سے 1850 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

جمعے کو موسم میں بہتری کے بعد چھ فوجی اور پانچ عام طیارے اور پانچ بحری جہازوں نے دوبارہ سمندر میں ملبے کی تلاش شروع کی تھی۔

جہاز کے ممکنہ ملبے کے بارے میں مزید سیٹلائٹ تصاویر بھی سامنے آئی ہیں اور تھائی لینڈ کے مصنوعی سیارے کی جانب سے 300 ٹکڑوں کی نشاندہی کے بعد جاپانی سیٹیلائٹ نے بھی دس ٹکڑوں کی نشاندہی کی ہے۔

اسے پہلے 23 مارچ کو فرانسیسی سیٹلائٹ نے بھی سمندر میں 122 کے قریب ٹکڑے دکھائی دیے جانے کا دعویٰ کیا تھا جن کا حجم ایک میٹر سے 23 میٹر یا تقریباً 75 فٹ تک تھا۔

مسافر طیارہ ایم ایچ 370 آٹھ مارچ کو کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے لاپتہ ہوا تھا اور اس پر 227 مسافر اور عملے کے 12 ارکان سوار تھے۔

ملائیشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق نےگذشتہ پیر کو باقاعدہ طور پر طیارے کی بحرِ ہند میں گر کر تباہی اور اس پر سوار تمام 239 افراد کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا۔

اس طیارے کے 153 مسافروں کا تعلق چین سے تھا جن میں سے متعدد کے لواحقین اپنے رشتہ داروں کی ہلاکت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ کیونکہ اب تک طیارے کا ملبہ نہیں مل سکا ہے۔

اسی بارے میں