جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حال ہی میں شمالی کوریا نے درمیانی رینج کے دو بلسٹک میزائلوں کا تجریہ کیا

جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان متنازع مغربی سمندری سرحد کے قریب گولہ باری کا تبادلہ ہوا ہے۔

پیر کے روز شمالی کوریا نے اعلان کیا تھا کہ وہ سرحدی علاقے کے سات حصوں میں اصل اسلحے کے ساتھ فوجی مشقیں کریں گے۔

جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ جب شمالی کوریا کے گولوں کے خول ان کی سمندری حدود میں گرے تو انھوں نے اس کے ردِ عمل میں جوابی فائر کیے۔

یہ علاقہ دونوں ممالک کے درمیان متنازع رہا ہے۔ کوریائی جنگ کے بعد اقوام متحدہ نے مغربی سرحد کا تعین کیا تھا تاہم شمالی کوریا نے اسے کھبی تسلیم نہیں کیا۔

2010 کے آخری مہینوں میں شمالی کوریا کی توپوں کی فائرنگ سے چار جنوبی کوریائی ہلاک ہوئے تھے اور اگست 2011 میں بھی دونوں ممالک کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا۔

شمالی کوریا کی فوج نے ایک فیکس کے ذریعے جنوبی کوریا کی بحریہ کو حالیہ فوجی مشقوں کے بارے میں مطلع کیا تھا۔

جنوبی کوریا نے کہا تھا کہ اگر گولوں نے سرحد پار کی تو فوری جوابی کارروائی ہوگی۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع نے کہا کہ شمالی کوریا کے چند گولے سرحد کے جنوب میں گرے اور فوج نے معمول کے قواعد کے مطابق جوابی فائر کیے۔

جنوبی کوریا کے مطابق سینکڑوں گولے فائر کیے گئے تھے۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ شمالی کوریا نے مشق میں تقریباً 500 گولے فائر کیے جن میں سے ایک سو جنوبی کوریا کی حدود میں گرے۔ انھوں نے بتایا کہ جنوبی کوریا نے جواب میں تین سو گولے فائر کیے ہیں۔

یاد رہے کہ حال ہی میں شمالی کوریا نے درمیانی رینج کے دو بیلسٹک میزائلوں کا تجریہ کیا ہے۔

2009 کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ نڈونگ میزائل کا تجربہ کیا گیا۔ گذشتہ چند ہفتوں میں شمالی کوریا چھوٹی رینج کے میزائلوں کے تجربات کرتا رہا ہے۔

نوڈونگ میزائل کا یہ تجربہ جنوبی کوریا کے ایک بحری جہاز کو نشانہ بنانے کی چوتھی سالگرہ کے موقعے پر کیا گیا ہے۔

امریکہ اور جنوبی کوریا نے اس تجربے کی مذمت کی ہے جو کہ اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شمالی کوریا اب تک جوہری ہتھیاروں کے تجربے کر چکا ہے جن میں سے تازہ ترین فروری 2013 میں کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں