’لاپتہ طیارہ کی تلاش میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ ap
Image caption لاپتہ مسافر طیارے کی تلاش کے لیے وقت کی کوئی قید مقرر نہیں کی گئی: ٹونی ایبٹ

ملائشیا کے لاپتہ طیارے کی تلاش کے شریک ذمہ دار اور آسٹریلیا کی فضائیہ کے سربراہ نے کہا ہے لاپتہ طیارے کی تلاش میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں اور یہ ابھی تک کا سب سے چیلنجنگ کام ہے۔

ایئر چیف مارشل اینگس ہوسٹن نے کہا کہ اس کی تلاش کےلیے وقت درکار ہے اور اس میں ابھی مزید کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

ملائیشیا سے بیجنگ جانے والا یہ مسافر طیارہ آٹھ مارچ کو لاپتہ ہو گیا تھا جس پر 239 مسافر سوار تھے۔

ہوسٹن تلاش کرنے والی مشترکہ ایجنسی جے اے سی سی کی نگرانی کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تلاش کا کام انتہائي پیچیدہ تھا کیونکہ تلاش کرنے والی ٹیم کے پاس کوئی ٹھوس معلومات نہیں تھی جس پر وہ کام کرے۔

تلاش کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ کوئي ایسی چیز نہیں کہ یہ آنے والے دو ہفتوں میں حل ہی ہو جائے۔

اس سے قبل ملائیشیا کے حکام کی طرف سے جاری ایک اور ریکارڈ کے مطابق لاپتہ طیارے کے کاک پٹ سے ایئر ٹریفک کنٹرول کو موصول ہونے والے آخری الفاظ’شب بخیر ملائیشین 370‘ کے تھے۔

ملائیشیا کے وزیرِ ٹرانسپورٹ نے پیر کو کہا کہ فورینزیک تحقیقات کے ذریعے اس بات کا پتہ چلائے جائے گا کہ یہ الفاظ لاپتہ طیارے کے پائلٹ یا ان کے معاؤن پائلٹ نے کہے ہیں۔

بی بی سی کے ٹرانسپورٹ کے نامہ نگار رچرڈ ویسٹ کاٹ کا کہنا ہے کہ لاپتہ طیارے کے کاک پٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرول کے درمیان آخری رابطے کا ریکارڈ میں کہے گئے الفاظ زیادہ رسمی ہیں اور اس گفتگو کے طریقۂ کار سے مطابقت رکھتے ہیں جس طرح ایک پائلٹ ٹریفک کنٹرول سے بات کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ حکام کو یہ الفاظ معلوم کرنے میں اتنی دیر کیوں لگی۔

اس سے پہلے پیر کو آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم ٹونی ایبٹ نے کہا تھا کہ لاپتہ مسافر طیارے کی تلاش کے لیے وقت کی کوئی قید مقرر نہیں کی گئی۔

مغربی ساحلی شہر پرتھ کے قریب صحافیوں سے بات کرتے ہوئے آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ ایم ایچ 370 کی تلاش کا کام مسلسل جاری ہے۔

دس ہوائی جہاز اور دس بحری جہاز پرتھ کے جنوب مغرب میں بحرِ ہند میں جہاز کا ملبہ تلاش کر رہے ہیں۔

جہاز کے کاک پٹ میں ہونے والی سرگرمیوں کا ریکارڈ جہاز میں موجود فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر محفوظ ہو جاتا ہے تاہم اس فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر کی جانب سے سنگلز محض 30 دن تک موصول ہوتے ہیں۔

جہاز کی تلاش میں مصروف ٹیمیں اس مدت کے خاتمے سے قبل فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر کو تلاش کرنے کی خواہش مند ہیں اور اس کے لیے ایک مخصوص آلے ’ٹوڈ پِنگ لوکیٹر‘ (toad ping locator) استعمال کیا جائے گا تاہم اس کے لیے بھی پہلے جہاز کے ملبے کے مقام کی مصدقہ نشاندہی ضروری ہے۔

حالیہ دنوں میں میں متعدد مقامات پر ملبے کے مشتبہ ٹکڑوں کی نشاندہی کی گئی لیکن ان میں سے کوئی بھی لاپتہ جہاز کا نہیں تھا۔

آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا: ’ہم مزید کچھ عرصے تک تلاش کا کام جاری رکھیں گے۔ ہماری تلاش کی شدت اور دائرہِ کار بڑھ رہا ہے کم نہیں ہو رہا۔‘

لاپتہ جہاز کے 153 چینی مسافروں کے رشتہ دار کوالالمپور میں ہیں اور وہ ملائیشیا کے حکام کی جانب سے غیر یقینی اطلاعات پر برہم ہیں۔

ملائیشیا کے قائمقام وزیرِ ٹرانسپورٹ حشام الدین حسین نے کہا کہ حکومت طیارے کی تلاش کے حوالے سے مسافروں کے لواحقین کو ایک بریفنگ دے گی جس میں ماہرین بھی شامل ہونگے جو سرچ آپریشن کے حوالے سے بتائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ یہ بریفنگ براہ راست نشر کی جائے گی تاکے اسے بیجنگ میں مسافروں کے لواحقین بھی دیکھ سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملائیشیا اس معاملے کو اس وقت تک نہیں چھوڑے گا جب تک یہ پتہ نہ چلایا جا سکے کہ ایم ایچ 370 کو کیا ہوا۔

اسی بارے میں