نیٹو نے روس کے ساتھ سول و فوجی تعاون معطل کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption روس کے ساتھ اب معمول کا کوئی کاروبار نہیں ہو سکتا: آئیرس فو راس موسن

نیٹو ممالک کے وزرائے خارجہ نے برسلز میں ہونے والی ایک ملاقات کے بعد روس کے ساتھ تمام سول اور فوجی تعاون معطل کر دیا ہے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل آئیرس فو راس موسن نے کہا ہے کہ روس کا کرائمیا پر قبضہ کرنا یورپ کی سکیورٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب روس کے ساتھ معمول کا کوئی کاروبار نہیں ہو سکتا۔

راس موسن نے روس کے ساتھ سول اور فوجی تعاون ختم کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کا پیغام بہت واضح ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں اور یوکرین کے ساتھ ہے۔

انھوں نے روس سے استدعا کی کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور یوکرین کی سرحدوں کا احترام کرے۔

اس سے قبل آئیرس فو راس موسن نے ان اطلاعات کی تردید کی تھی کہ روس یوکرین کی سرحد سے اپنی افواج کو واپس بلا رہا ہے۔

خیال رہے کہ ہزاروں کی تعداد میں روسی افواج اب بھی یوکرین کی مشرقی سرحد پر موجود ہے جس سے مغربی ممالک اور کیئف میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

روس کی جانب سے کرائمیا کے الحاق کی وجہ سے پیدا ہونے والے سفارتی تناؤ کے بعد نیٹو کے 28 ممالک کے وزرائے خارجہ کی یہ پہلی ملاقات تھی۔

اس اجلاس کے بعد نیٹو ممالک کے وزرائے خارجہ نے روس کے ساتھ ہر قسم کا تعاون ختم کرنے کا اعلان کیا تاہم اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ نیٹو روس کونسل میں سفارتی سطح پر بات چیت جاری رہنی چاہیے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ نیٹو کے طیارے اس خطے میں معمول کی پروازوں میں حصہ لیں گے جسے تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتِ حال کی وجہ سے زیادہ اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔

کئی نیٹو ممالک جن میں برطانیہ، امریکہ اور فرانس شامل ہیں، ان مشقوں میں حصہ لینے کےلیے اضافی جنگی طیارے مہیا کرنے کی پیشکش کی ہے۔

خیال رہے کہ یوکرین میں روس کی کارروائی کی وجہ سے سابق سوویت یونین کی ریاستیں ایسٹونیا، لیٹویا اور لتھوانیا مضطرب ہو گئی ہیں۔

اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے روس کے وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف کے ساتھ ’دوستانہ ماحول‘ میں چار گھنٹے تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد اعلان کیا تھا کہ یوکرین کے معاملے پر کوئی نیا سمجھوتہ نہیں ہوا ہے۔

انھوں نے یہ اعلان پیرس میں ہم روسی اپنے ہم منصب سرگے لاوروف سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہزاروں کی تعداد میں روسی افواج اب بھی یوکرین کی مشرقی سرحد پر موجود ہے جس سے مغربی ممالک اور کیئف میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ اب بھی کرائمیا میں روسی کارروائی کو ’غیر قانونی‘ سمجھتا ہے۔

جان کیری نے کہا تھا کہ یوکرین کی سرحدوں پر روسی فوجیوں کی موجودگی سے خوف و ہراس کی فصا پیدا ہو گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دونوں ممالک کے درمیان اس بحران کے محرکات پر اختلافِ رائے ہے لیکن دونوں اس مسئلے کو سفارتی طریقے سے حل کرنے پر متفق ہیں۔‘

اس سے پہلے سرگے لاوروف نے ایک غیر جانبدار وفاقی یوکرین بنانے کا مطالبہ کیا جسے کیئف نے ’مکمل غلامی‘ قرار دیا۔ تاہم روسی وزیرِ خارجہ نے یوکرین پر فوج کشی کے امکان کو رد کیا تھا۔

یوکرین کے جزیرہ نما کرائمیا کو اپنی فیڈریشن کا حصہ بنانے پر روس کو عالمی تنقید اور مذمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

کرائمیا 16 مارچ کو ہونے والے ریفرینڈم کے بعد یوکرین سے علیحدہ ہو کر روس میں شامل ہو گیا تھا۔

اس ریفرینڈم کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے غیر قانونی قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں