چلی میں شدید زلزلے کے بعد ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زلزلے کے بعد چلی کے ساحلی علاقوں کو خالی کرنے اور لوگوں کو منتقل کرنے کا حکم جاری کیا گيا

چلی میں 8.2 شدت کے زلزلے کے بعد ملک کے شمالی علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے۔ زلزلے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ہزاروں لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے۔

زلزلے کے بعد ہزاروں افراد کو سونامی کے خطرے کی زد والے علاقوں سے نکال لیا گیا ہے۔ بعض ساحلی علاقوں سے چھ فٹ اونچی لہریں ٹکرائی ہیں اور کچھ جگہوں سے بجلی کی بندش، آتش زدگی اور مٹی کے تودے گرنے کی اطلاعات ہیں۔

امریکی جيولوجیكل سروے کے مطابق چلی کے شمال میں 8.2 شدت کا یہ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق پونے نو بجے آیا۔ اس کے بعد لاطینی امریکہ کے بحرالکاہل کے تمام ساحلی ممالک کے لیے سونامی کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں وہ افراد شامل ہیں جو عمارتوں کے ملبے تلے دب گئے یا دل دھڑکن بند ہونے کی ہوجہ سے ہلاک ہوئے۔

چلی کی حکومت نے کہا کہ ملک کے شمالی علاقے اریکا، پرینیکوٹا اور تاراپاکا کے علاقوں میں قدرتی آفات کا اعلان اس لیے کیا گيا ہے کہ لوٹ مار اور بد نظمی سے بچا جا سکے۔

چلی کی صدر میشیل بیچلیٹ نے کہا کہ ان کے ’ملک نے ایمرجنسی کا اچھی طرح سامنا کیا ہے اور متاثرہ علاقے کے لوگوں سے پرسکون رہنے اور حکام کی جانب سے جاری کی جانے والی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔‘

وہ متاثرہ علاقوں کا بعد میں دورہ کریں گی کیونکہ ابھی وہاں رات ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ساحلی شہروں کے لوگوں کو ہوشیار اور مستعد رہنے کے لیے کہا گيا ہے

آئیكويك کے گورنر گونزالو پریٹو نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کے علاوہ اس زلزلے میں متعدد افراد شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔

آریکا میں زلزلے سے بعض رہائشی عمارتوں کو نقصان ہونے کی اطلاعات ہیں تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ انھیں کسی بڑی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

امریکی ادارے کے مطابق اس زلزلے کا مرکز سمندر کی سطح سے دس کلومیٹر نیچے تھا۔ اس زلزلے کی وجہ سے وہاں سے 86 کلومیٹر شمال مغرب میں موجود کان کنی والا علاقہ آئیكويك لرز اٹھا۔

مقامی وقت کے مطابق یہ زلزلہ رات پونے نو بجے آیا جس سے چلی کے دارالحکومت سانتیاگو کی عمارتیں لرز اٹھیں حالانکہ کہ یہ زلزلے کے مرکز سے 470 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔

اطلاعات ہیں کہ چلی کے ساحل سے دو میٹر اونچی لہریں ٹکرا رہی ہیں۔

چلی کے حکام نے ساحلی علاقوں کو تیزی سے خالی کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

چلی کی سڑکیں مٹی کے تودوں اور زمین کھسکنے کی وجہ سے مسدود ہو گئی ہیں اور وہاں کے ٹی وی چینلوں پر یہ دکھایا جا رہا ہے کہ سڑکوں پر زبردست ٹریفک جام ہو گیا ہے۔

پیسیفک سونامی وارننگ سینٹر (ٹي ڈبلیوسي) کی طرف سے جاری وارننگ میں پیرو، ایکواڈور، کولمبیا، پاناما، كوسٹاریكا اور نکاراگوا کے ساحلوں پر بھی سونامی کا خطرہ بتایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بعض جگہ آتشزدگی کے واقعات بھی پیش آئے

چلی کے وزیر داخلہ نے بی بی سی کو بتایا کہ آئیکوک جانے والی اہم سڑک بند ہو گئی ہے کیونکہ پہاڑی علاقوں سے مٹی کا تودہ سڑک پر آ گرا ہے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ مٹی کے تودے گرنے کا واقعہ پترے اور جنرل لاگوس شہروں کے درمیان بھی واقع ہوا ہے۔

ایکواڈور کے صدر رفائل کوریا نے ٹوئٹر پر کہا ہے: ’ہمارے ساحلوں پر رہنے والے تمام افراد کو ہوشیار اور تیار رہنا ہے۔‘

چلی کی بحریہ نے کہا ہے کہ ’زلزلے کے 45 منٹ بعد ساحل سے اونچی لہریں ٹکرا رہی تھیں۔‘

چلی کے وزیر داخلہ محمود علی نے کہا: ’ہم نے شہریوں سے تمام ساحلی علاقوں کو خالی کرنے کے لیے کہہ دیا ہے۔۔۔ (تاہم) کسی بھی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔‘

ٹی ڈبلیو سی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’اس قسم کے بڑے زلزلے کے فوراً بعد اس کے مرکز کے ساحلی علاقوں میں سونامی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption متاثرہ علاقے سے بڑی تعداد میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر پنچایا جا رہا ہے

شمالی چلی کے شہر اینٹوفگاستا میں رہنے والے ایک برطانوی شخص نے کہا کہ گذشتہ سال کے اخیر سے اب تک یہاں زلزلے کے کئی جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ لیکن یہ زلزلہ جو کہ بہت زیادہ دور آيا تھا وہ بہت دیر تک رہا۔

پیٹرک مور نے بی بی سی کو بتایا: ’میں اپنے بستر پر بیٹھا ہوا تھا کہ جھٹکا لگا۔ عموماً یہ جھٹکے 40 سیکنڈ رہتے ہیں لیکن یہ تقریباً دو منٹ تک رہا۔‘

ایک شخص نے بتایا کہ اس کے بعد بجلی چلی گئی لیکن حیرت انگیز طور پر فون کام کر رہے تھے۔

واضح رہے کہ چلی دنیا کے زلزلے والے علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں عام طور پر زلزلے جھٹکے محسوس ہوتے رہتے ہیں۔

اس سے قبل فروری سنہ 2010 میں وہاں 8.8 شدت کا زلزلہ آیا تھا اور اس کے بعد سونامی آیا جس سے کئی شہر تباہ ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں