جنوبی کوریا کا ’شمالی کوریا کے ڈرون‘ کا معائنہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ڈرون شمالی کوریا کی طرف سے آیا

جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ مبینہ طور شمالی کوریا کے ڈرون طیارے کا معائنہ کر رہا ہے جو سرحد پر فائرنگ کے تبادلے کے بعد گرا تھا۔

یہ ڈرون پیر کو بانگ یانگ جزیرے میں گرا تھا۔

سیول کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون اس وقت گرا جب جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان ایک دوسرے کی سمندری حدود میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جو شمالی کوریا کی طرف سے شروع کی گئی تھی۔

جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ڈرون شمالی کوریا کی طرف سے آیا۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ اتحاد کے ایک ترجمان نے کہا کہ’جنوبی کوریا کے متعلقہ محکمہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس کے لیے ذمہ دار جنوبی کوریا ہے۔‘

یان ہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق اسی قسم کا ڈرون 24 مارچ کو شمالی اور جنوبی کوریا کو جدا کرنے والے غیر عسکری علاقے پاجو میں بھی ملا تھا۔

ایجنسی کے مطابق اس ڈرون میں اعلیٰ قسم کے کیمرے لگے ہوئے تھے جس سے فوجی عمارتوں اور جنوبی کوریا کے صدر کے گھر کی تصاویر لی گئیں تھیں۔

پیر کے روز دونوں ممالک کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ اس وقت ہوا جب شمالی کوریا نے اعلان کیا کہ وہ سرحدی علاقے کے سات حصوں میں اصل اسلحے کے ساتھ فوجی مشقیں کرے گا۔

جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ جب شمالی کوریا کے گولوں کے خول ان کی سمندری حدود میں گرے تو انھوں نے اس کے ردِ عمل میں جوابی فائر کیے۔

یہ علاقہ دونوں ممالک کے درمیان متنازع رہا ہے۔ کوریائی جنگ کے بعد اقوام متحدہ نے مغربی سرحد کا تعین کیا تھا تاہم شمالی کوریا نے اسے کھبی تسلیم نہیں کیا۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے بتایا تھا کہ شمالی کوریا نے مشق میں تقریباً 500 گولے فائر کیے جن میں سے ایک سو جنوبی کوریا کی حدود میں گرے۔ انھوں نے بتایا کہ جنوبی کوریا نے جواب میں تین سو گولے فائر کیے ہیں۔

یاد رہے کہ حال ہی میں شمالی کوریا نے درمیانی رینج کے دو بیلسٹک میزائلوں کا تجریہ کیا ہے۔

2009 کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ نڈونگ میزائل کا تجربہ کیا گیا۔ گذشتہ چند ہفتوں میں شمالی کوریا چھوٹی رینج کے میزائلوں کے تجربات کرتا رہا ہے۔

نوڈونگ میزائل کا یہ تجربہ جنوبی کوریا کے ایک بحری جہاز کو نشانہ بنانے کی چوتھی سالگرہ کے موقعے پر کیا گیا ہے۔

امریکہ اور جنوبی کوریا نے اس تجربے کی مذمت کی ہے جو کہ اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شمالی کوریا اب تک جوہری ہتھیاروں کے تجربے کر چکا ہے جن میں سے تازہ ترین فروری 2013 میں کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں