امریکی فوجی اڈے فورٹ ہُڈ میں فائرنگ، چار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سنہ 2009 میں اسی فوجی اڈے پر فائرنگ سے 13 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہو گئے تھے

امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر ایک امریکی فوجی کی فائرنگ سے چار افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں حملہ آور بھی شامل ہے جس نے خود کو گولی مار لی ہے۔

فوج حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور کی نشاندہی کر لی گئی ہے تاہم ان کے خاندان کو ابھی تک مطلع نہیں کیا گیا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے اس واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔

فوجی ترجمان لیٹیننٹ جنرل مارک ملی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں کہ اس حملے کا دہشتگردی سے کوئی تعلق تھا تاہم اسے خارج از امکان نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ 2009 میں اسی فوجی اڈے پر محجر ندال حسن نے فائرنگ کر کے 13 افراد کو ہلاک اور 32 کو زخمی کر دیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق صورتحال پر قابو پا لیا گیا ہے اور حالات معمول پر لوٹ رہے ہیں۔

ایف بی آئی کے ایک اہلکار لی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایف بی آئی اور مقامی پولیس نے اس واقعہ پر تبادلہ خیال کیا ہے تاہم انھوں نے فائرنگ میں زخمی ہونے والوں کے بارے میں مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس واقعہ کا جائزہ لے رہے ہیں۔

جنرل ملی نے بتایا کہ حملہ آور فوجی عراق میں اپنی خدمات انجام دے چکا ہے اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہا تھا کہ انہیں نفسیاتی علاج کی ضرورت ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور ڈپریشن کا شکار تھا۔

دوسری جانب امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ وہ اس خبر سے دل شکستہ ہیں۔ انھوں نے فائرنگ کے واقعہ کی مکمل تحقیقات کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

ان کا کہنا تھا ’ میں آپ سب کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم اس واقعہ کی تہہ تک پہنچے گے۔‘

براک اوباما کے مطابق فورٹ ُہڈ کے لوگوں نے آزای کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔

اسی بارے میں