انڈونیشیا نے18 لاکھ خون بہا ادا کر کےشہری کو بچا لیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ستینہ نے اپنی سعودی مالکن نور الغارب پر ستمبر 2007 میں وار کیا اور وہ کوما میں جانے کے بعد انتقال کر گئیں

انڈونیشیا کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنے والے ایک انڈونیشائی خاتون کو سزائے موت سے بچانے کے لیے تقریبا 18 لاکھ ڈالر خون بہا یا دیت کے طور پر ادا کرے گی۔

ستینہ نامی اس انڈونیشائی خاتون کو سات سال قبل اپنی سعودی مالکن کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

چند روز میں ان کا سر قلم کیا جانا تھا تاہم انڈونیشیا میں چلائی گئی ایک مہم میں 41 سالہ خاتون کے خاندان اور دوستوں نے کچھ دیت کی رقم اکٹھی کر لی تھی۔

انڈونیشیا کی حکومت نے اب باقی کی تمام رقم ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ستینہ نے اپنی سعودی مالکن نور الغارب پر ستمبر 2007 میں وار کیا اور وہ کوما میں جانے کے بعد انتقال کر گئیں۔

واقعے کے بعد ستینہ 40000 ریال لے کر وہاں سے فرار ہو گئیں تاہم انھیں گرفتار کر لیا گیا۔

اپنے دفاع میں انڈونیشیائی خاتون کا کہنا ہے کہ ان کی مالکن نے انھیں مارا پیٹا اور انھیں بالوں سے گھسیٹتے ہوئے ان کا سر دیوار سے دے مارا۔ اور تبھی انھوں نے جواباً اپنی مالکن پر حملہ کیا۔

انڈونیشیا میں دیت کی رقم اکٹھا کرنے میں ملک کے سیاستدان، مشہور شخصیات، اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے حصہ لیا۔

ہلاک ہونے والے خاتون کے خاندان نے دیت کی رقم میں کمی کی تھی تاہم سزا پر عملدرآمد میں چند روز رہ جانے پر بھی پوری رقم جمع نہیں ہوئی تھی۔

انڈونیشیا کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا کہ باقی ماندہ رقم وہ ادا کرے گی۔ انھوں نے بتایا کہ ستینہ پر اب دوبارہ مقدمہ چلے گا۔

تاہم انڈونیشیا میں تمام لوگوں نے اس اقدام کی پذیرائی نہیں کی ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ عوام کے پیسے کو کسی قتل کے مجرم کے لیے نہیں دینا چاہیے۔

اسی بارے میں