لبنان میں شامی مہاجرین کی تعداد دس لاکھ ہو گئی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بیروت میں اب تک بشارالاسد کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان لڑائی میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ لبنان میں شامی مہاجرین کی تعداد دس لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ایچ سی آر کے سربراہ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ فی کس پناہ گزین لبنان میں موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’لبنان پر جسے اندرونی مشکلات کا بھی سامنا ہے، اس کا بہت بڑا اثر ہے۔‘

شام میں کشیدگی شروع ہونے کے بعد وہاں سے تقربیاً 95 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ یہ تعداد شام کی تقریباً آدھی آبادی کے برابر ہے۔

25 لاکھ سے زائد افراد ملک چھوڑ چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر ترکی، اْردن، عراق، مصر اور دیگر ممالک میں پناہ گزین ہیں۔ تاہم لبنان میں یہ تعداد سب سے زیادہ ہے جہاں ان کی تعداد مقامی آبادی کے چوتھے حصے کے برابر ہو گئی ہے۔

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جیم موئر کا کہنا ہے کہ ان مہاجرین کی وجہ سے لبنان پر بہت دباؤ ہے جو شام کے پڑوسی ممالک میں سب سے چھوٹا اور غیر محفوظ ملک ہے۔

گذشتہ مہینے لبنان کے وزیرِخارجہ نے کہا تھا کہ مہاجرین کا مسئلہ ان کے ’ملک کی وجود کے لیے خطرہ ہے۔‘

گیوتریس نے کہا کہ ’لبنان کے عوام نے بڑی دریا دلی کا مظاہر کیا ہے لیکن انھیں اس مسئلے سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔‘

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ لبنان میں مہاجرین کی آمد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس نے ایک بیان میں کہا کہ ’یو این ایچ سی آر روزانہ ڈھائی ہزار نئے مہاجرین کا اندراج کر رہا ہے، جو ایک منٹ میں ایک زیادہ مہاجر کے اندراج سے زیادہ بنتا ہے۔‘

بین الاقوامی امدادی اداروں کو بھی مہاجرین کی آمد سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا درپیش ہے۔

یو این ایچ سی آر نے ساڑھے چھ ارب امریکی ڈالر کا چندہ مانگا تھا لیکن اسے صرف اس کا 14 فیصد ملا ہے۔

مہاجرین کو درپیش مسائل کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے جب گذشتہ ہفتے ایک چار بچوں کی ماں نے، جس کا شوہر بیمار تھا، اپنے آپ کو امداد نہ ملنے کی وجہ سے آگ لگا دی۔ اس سے وہ شدید زخمی ہو گئی تھیں۔

شام میں سنی باغیوں اور بشارالاسد کی حکومت کے درمیان لبنان میں بھی فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ گئی ہے جہاں زیادہ تر سنی اور شیعہ آباد ہیں۔

بیروت میں اب تک بشارالاسد کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان لڑائی میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں