ٹائٹینک کے ڈوبنے کی وجہ چاند

تصویر کے کاپی رائٹ NOAA IFE URI
Image caption ٹائٹینک کی غرقابی کا راز جاننے کی کوششیں آج بھی جاری ہیں

برطانوی سائنس دانوں نے اس نظریے کو چیلنج کیا ہے جس میں ٹائٹینک کے ڈوبنے کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ 1912 میں شمالی بحرِ اوقیانوس میں معمول سے کہیں زیادہ برفانی تودے موجود تھے۔

ٹائٹینک 102 سال قبل اپنے پہلے سفر کے دوران ایک برفانی تودے سے ٹکرا کر ڈوب گیا تھا، جس سے ڈیڑھ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف شیفلیڈ کے ’ویدر‘ نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

برف کے جس تودے سے ٹائٹینک ٹکرایا تھا اسے 14 اپریل 1912 کی درمیانی رات کو صرف اسی وقت دیکھاگیا جب جہاز اس سے صرف پانچ سو میٹر قریب پہنچ گیا تھا۔ یہ فاصلہ اتنا کم تھا کہ جہاز کو روکا یا اس کا رخ موڑا نہیں جا سکتا تھا۔ ٹکر کے بعد بحری جہاز کے عرشے کا سو میٹر کے قریب کا حصہ ٹوٹ کر پانی میں گرگیا اور پورا بحری جہاز اڑھائی گھنٹے کے اندر اندر غرقاب ہو گیا۔

حادثے کے بعد کے دنوں میں بحراوقیانوس میں برف کے تودوں کی معمول سے زیادہ موجودگی کی خبریں سامنے آنا شروع ہو گئیں۔ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا اس وقت امریکی حکام نے نیویارک ٹائمز کو بتایا تھا کہ نسبتاً گرم موسم کی وجہ سے اس علاقے میں برف کے زیادہ تودے موجود تھے۔ حادثے سے کچھ دن قبل تیز ہواؤں اور سمندری لہروں کی وجہ سے برف کے یہ تودے عام برسوں کی نسبت زیادہ جنوب کی طرف بہتے چلے گئے۔

اس کے بعد سے محققین یہ جاننے میں کوشاں ہیں کہ شمالی بحراوقیانوس میں بڑی تعداد میں برف کے تودے پائے جانے کی وجہ کیا تھی۔ ایک امریکی تحقیقی گروپ کے مطابق یہ سمندری لہریں اس وقت زیادہ ہوتی ہیں جب چاند کا زمین سے فاصلہ کم ہوتا ہے۔ اور ان کے مطابق انھی لہروں کے باعث گرین لینڈ سے برف کے گلیشیئر ٹوٹ ٹوٹ کر سمندر میں شامل ہوتے رہے اور یہی بات ٹائٹینک کے حادثے کا سبب بنی۔

تحقیق کاروں نے تخمینہ لگایا ہے کہ اگرچہ 1912 میں برف کے 1038 تودے دیکھے گئے، تاہم یہ تعداد باقی برسوں کی مقابلے پر غیرمعمولی طور پر زیادہ نہیں تھی۔

انھوں نے یہ حساب بھی لگایا ہے کہ جس تودے سے ٹائٹینک ٹکرایا، وہ 1911 کی خزاں میں جنوب مغربی گرین لینڈ کے گلیشیئروں سے الگ ہوا تھا۔ یہ تودہ 500 میٹر طویل اور 300 میٹر اونچا تھا۔

اسی بارے میں