’ہمیں یقین ہے سگنل ایم ایچ 370 کا ہی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جمعرات کو ملنے والے پانچویں سگنل کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ اس کا تعلق ایم ایچ 370 کے بلیک باکس سے ہونے کا امکان کم ہے

آسٹریلوی سربراہ ٹونی ایبٹ کا کہنا ہے کہ حکام اس بارے میں بہت پراعتماد ہیں کہ بحرِ ہند میں ملنے سگنل ملائیشیا کے لاپتہ مسافر طیارے ایم ایچ 370 کے بلیک باکس ہی سے آ رہے ہیں۔

چین میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ طیارے کی کھوج میں مصروف ٹیموں نے تلاش کا دائرہ محدود کر لیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایک آسٹریلوی کشتی نے چار مختلف مواقع پر فلائٹ ریکاڈروں سے نشر ہونے والے سگنلوں کی مانند سگنل موصول کیے ہیں۔

تاہم جمعرات کو ملنے والے پانچویں سگنل کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق ایم ایچ 370 کے بلیک باکس سے ہونے کا امکان کم ہے۔

کوالالمپور سے بیجنگ جانے والا یہ مسافر بردار طیارہ آٹھ مارچ کو لاپتہ ہو گیا تھا اور اس پر 239 افراد سوار تھے، جن میں سے بیشتر چینی باشندے تھے۔

سیٹلائٹ معلومات کی بنیاد پر حکام کا خیال ہے کہ مسافر طیارہ اپنے متعین راستے سے بہت دور بحرِ ہند کے جنوبی حصّے میں سمندر میں گر گیا تھا۔

لاپتہ طیارے کی تلاش کرنے والی مہم کے رہنما ریٹائرڈ ایئر چیف مارشل اینگس ہوسٹن نے بدھ کو بتایا کہ ان کی ٹیم کو منگل کی دوپہر اور شام کو ایک بار پھر ’بلیک باکس‘ سے آنے والے سگنل ملے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اب متعدد بار سگنل موصول کرنے کے بعد تلاش کا دائرہ محدود کر دیا گیا ہے: وزیراعظم ٹونی ایبٹ

انھوں نے کہا کہ یہ سگنل ’مخصوص الیکٹرانک آلات‘ سے نشر ہو رہے تھے۔

ایئر چیف مارشل ہوسٹن نے کہا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ ہم لاپتہ طیارے کی صحیح علاقے میں تلاش کر رہے ہیں، تاہم یہ تصدیق کرنے سے پہلے کہ ایم ایچ 370 واقعی اسی جگہ گرا ہے، ہمیں پہلے اپنی آنکھوں سے اس کا ملبہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔‘

وزیراعظم ٹونی ایبٹ کا کہنا تھا کہ تلاش میں مصروف ٹیموں کو جلد از جلد معلومات اکٹھی کرنی ہوں گی تاکہ بلیک باکس کی بیٹری ختم ہونے سے پہلے اسے ڈھونڈا جا سکے۔

انھوں نے بتایا کہ اب متعدد بار سگنل موصول کرنے کے بعد تلاش کا دائرہ محدود کر دیا گیا ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اب وہ مرحلہ قریب ہے جب ’بلیک باکس‘سے نشر ہونے والے سگنل کمزور پڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔

تفتیش کاروں کو ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ ایم ایچ 370 ملائیشیا اور ویت نام کے درمیان بحیرۂ جنوبی چین کی حدود میں لاپتہ ہونے کے بعد اپنے متعین راستے سے اتنا دور کیوں چلی گئی تھی۔

اسی بارے میں