امریکہ نے ایرانی سفیر کو ویزہ دینے سے انکار کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Iranian Presidency
Image caption حمید ابوطالبی اس طلبہ تحریک کا حصہ تھے جس نے سنہ 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر کے وہاں موجود افراد کو یرغمال بنا لیا تھا

وائٹ ہاؤس نے اقوامِ متحدہ میں ایران کے منتخب کردہ سفیر حمید ابو طالبی کو امریکی ویزہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔

امریکی پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے حمید ابو طالبی کے امریکہ میں داخل ہونے کے خلاف ووٹ دیا۔

واضح رہے کہ امریکہ نے اس سے پہلے اقوامِ متحدہ کے کسی بھی سفارت کار کو ویزہ دینے سے انکار نہیں کیا اور نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دیگر سفارت کاروں کو اس بات پر تشویش ہے کہ کہیں یہ روایت مستقل طور پر قائم نہ ہو جائے۔

ایرانی سفیر کے امریکہ داخلے پر پابندی کے لیےقانون سازی

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے جمعے کو کہا کہ امریکہ نے اقوامِ متحدہ اور ایران کو بتا دیا ہے کہ حمید ابو طالبی کو ویزہ جاری نہیں کیا جائےگا۔

دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ حمید ابو طالبی اس کے سیینئیر ترین سفارت کاروں میں سے ایک ہیں اور اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر کے طور پر ان کا نام واپس نہیں لیا جائے گا۔

خیال رہے کہ حمید ابوطالبی اس طلبہ تحریک کا حصہ تھے جس نے سنہ 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر کے وہاں موجود افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد 52 امریکی شہریوں کو 444 دن تک یرغمال بنا کر رکھا گیا تھا۔

اس انقلاب کے تحت امریکہ کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے ایران کے بادشاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت معزول کر دی گئی تھی اور آیت اللہ خمینی نے ایران کا اقتدار سنبھال لیا تھا۔

امریکہ کے اس فیصلے کے بعد اقوامِ متحدہ کا دفتر نیو یارک میں واقع ہونے کی وجہ سے حمید ابو طالبی کے لیے اقوامِ متحدہ میں ایرانی سفیر کی حیثیت سے کام کرنا مشکل ہو جائے گا۔

اس سے قبل حمید ابوطالبی بیلجیئم، یورپی یونین، اٹلی اور آسٹریلیا میں ایرانی سفیر رہ چکے ہیں۔

اس معاملے کو لے کر امریکی پارلیمان کی جانب سے صدر باراک اومابا پر شدید دباؤ تھا کہ وہ حمید ابو طالبی کو ملک میں آنے کی اجازت نہ دیں۔

اس سے پہلے جمعرات کو وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے ایرانی حکومت کو کہا ’ہم نے یہ بات واضح طور پر ایرانیوں کو بتا دی ہے کہ حمید ابو طالبی کا انتخاب قابلِ عمل نہیں ہے۔‘

جمعرات کو منظور ہونے والے مسودۂ قانون کے تحت ان افراد کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے جنھوں نے جاسوسی یا دہشت گردی میں حصہ لیا ہو اور جو قومی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث ہوں۔

یہ مسودہ ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے رپبلکن پارٹی کے سینیٹر ٹیڈ کروز نے سینیٹ میں پیش کیا تھا۔

انھوں نے صدر اوباما پر زور دیا کہ وہ اسے منظور کر لیں ’ہم بطورِ قوم ایران جیسے بدمعاش ملکوں کو متفقہ پیغام بھیج سکتے ہیں کہ امریکہ اس قسم کا مخالفانہ اور اشتعال انگیز رویہ برداشت نہیں کر سکتا۔‘

اسی بارے میں