امریکہ ویزہ دے یا نہ دے، سفیر تبدیل نہیں کریں گے: ایران

تصویر کے کاپی رائٹ Iranian Presidency
Image caption حمید ابوطالبی اس طلبہ تحریک کا حصہ تھے جس نے سنہ 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر کے وہاں موجود افراد کو یرغمال بنا لیا تھا

ایران نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے اقوام متحدہ کے لیے اس کے مندوب کو ویزہ نہ دینے کے فیصلے کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اقوم متحدہ کے نیویارک میں اپنے نمائندے کے لیے متبادل نام تجویز نہیں کرے گا۔

ایرانی سفیر کے امریکہ داخلے پر پابندی کے لیےقانون سازی

ایران کے ایک سینئیر اہلکار نے کہا ہے کہہ وہ اس ’معاملے کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کے قانونی ذرائع استعمال کریں گے۔

خیال رہے کہ حمید ابوطالبی اس طلبہ تحریک کا حصہ تھے جس نے سنہ 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر کے وہاں موجود افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

حمید ابوطالبی کا کہنا ہے کہ وہ اس گروہ کے لیے مترجم کی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

اسی حوالے سے امریکی پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے حمید ابو طالبی کے امریکہ میں داخل ہونے کے خلاف ووٹ دے کر قرارداد صدر اوباما کو توثیق کے لیے بھجوائی تھی۔

اس ہفتے کے آغاز میں ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے کانگریس کی جانب سے اس اقدام کی شدید مذمت کی تھی۔

جواد ظریف نے قرارداد کے حامی افراد کو بنیاد پرستوں کا ایک گروہ قرار دیا اور کہا کہ اس اقدام سے ایران کی پالیسیوں پر اثر نہیں پڑے گا۔

ابھی تک اس مسودے پر صدر اوباما نے دستخط نہیں کیے ہیں مگر کانگریس کے اس اقدام کے نتیجے میں ابوطالبی کو ویزے سے انکار کر دیا گیا ہے۔

اسی حوالے سے امریکی پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے حمید ابو طالبی کے امریکہ میں داخل ہونے کے خلاف ووٹ دے کر قرارداد صدر اوباما کو توثیق کے لیے بھجوائی تھی۔

واضح رہے کہ امریکہ نے اس سے پہلے اقوامِ متحدہ کے کسی بھی سفارت کار کو ویزہ دینے سے انکار نہیں کیا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دیگر سفارت کاروں کو اس بات پر تشویش ہے کہ کہیں یہ روایت مستقل طور پر قائم نہ ہو جائے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے جمعے کو کہا کہ امریکہ نے اقوامِ متحدہ اور ایران کو بتا دیا ہے کہ حمید ابو طالبی کو ویزہ جاری نہیں کیا جائےگا۔

دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ حمید ابو طالبی اس کے سیینئیر ترین سفارت کاروں میں سے ایک ہیں اور اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر کے طور پر ان کا نام واپس نہیں لیا جائے گا۔

خیال رہے کہ حمید ابوطالبی اس طلبہ تحریک کا حصہ تھے جس نے سنہ 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر کے وہاں موجود افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد 52 امریکی شہریوں کو 444 دن تک یرغمال بنا کر رکھا گیا تھا۔

اس انقلاب کے تحت امریکہ کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے ایران کے بادشاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت معزول کر دی گئی تھی اور آیت اللہ خمینی نے ایران کا اقتدار سنبھال لیا تھا۔

امریکہ کے اس فیصلے کے بعد اقوامِ متحدہ کا دفتر نیو یارک میں واقع ہونے کی وجہ سے حمید ابو طالبی کے لیے اقوامِ متحدہ میں ایرانی سفیر کی حیثیت سے کام کرنا مشکل ہو جائے گا۔

اس سے قبل حمید ابوطالبی بیلجیئم، یورپی یونین، اٹلی اور آسٹریلیا میں ایرانی سفیر رہ چکے ہیں۔

اس معاملے کو لے کر امریکی پارلیمان کی جانب سے صدر باراک اومابا پر شدید دباؤ تھا کہ وہ حمید ابو طالبی کو ملک میں آنے کی اجازت نہ دیں۔

واضح رہے کہ امریکہ نے اس سے پہلے اقوامِ متحدہ کے کسی بھی سفارت کار کو ویزہ دینے سے انکار نہیں کیا اور نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دیگر سفارت کاروں کو اس بات پر تشویش ہے کہ کہیں یہ روایت مستقل طور پر قائم نہ ہو جائے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے جمعے کو کہا کہ امریکہ نے اقوامِ متحدہ اور ایران کو بتا دیا ہے کہ حمید ابو طالبی کو ویزہ جاری نہیں کیا جائےگا۔

دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ حمید ابو طالبی اس کے سیینئیر ترین سفارت کاروں میں سے ایک ہیں اور اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر کے طور پر ان کا نام واپس نہیں لیا جائے گا۔

اسی بارے میں