سیاچن: پاکستان اور بھارت کا برفانی محاذ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ’کوہ پیمائی برائے سیاست‘ کے محاذ پر بھارتی فوجی پوزیشن سنبھالے ہوئے ہیں

13 اپریل سنہ 1984 کے روز بھارت نے شمالی کشمیر میں ایک سخت مقابلے کے بعد پاکستان کو شکست دے کر سیاچن گلیشیئر پر کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

آج 30 سال گزر جانے کے بعد بھی بھارت اور پاکستان نے سیاچن پر آپس میں سینگ پھنسائے ہوئے ہیں، لیکن جس بھارتی کوہ پیما نے اس آپریشن کی بنیاد رکھی تھی اس کا کہنا ہے کہ بھارت کو جو بھی قیمت ادا کرنی پڑے اسےگلیشیئر کو اپنے قابو میں رکھنا چاہیے۔

لوگوں کی نظروں سے اوجھل دنیا کے اس بلند ترین محاذ پر یہ جنگ اپنی چوتھی دہائی میں داخل ہو رہی ہے۔

یہ تنازع اتنا پرانا ہو چکا ہے کہ اب پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری اس جنگ کے لیے ماہرین نے باقاعدہ ایک نئی اصطلاح استعمال کرنا شروع کر دی ہے۔ اب لوگ اسے یونانی سے اخد کردہ اصطلاح ’اورو پولیٹکس‘ یا ’کوہ پیمائی برائے سیاست‘ کا نام دینے لگ گئے ہیں۔

پہاڑوں میں جنگ

اگر کوئی شخص اس قدیم یونانی اصطلاح کو دور جدید میں دوباہ متعارف کرانے کا سہرا اپنے سر باندھ سکتا ہے، تو وہ بھارتی فوج کے کرنل نریندر کمار ہی ہو سکتے ہیں جن کی کوہ پیمائی کی عادت کی بدولت ہی بھارت سنہ 1984 کے اوائل میں سیاچن میں اپنے پاؤں جمانے میں کامیاب ہوا تھا۔

کوہ پیماؤں کی رسیوں اور نوک دار بوٹوں سے شروع ہونے والی یہ لڑائی اب ایسی جنگ میں بدل چکی ہے جس میں دونوں اطراف کے فوجی باقاعدہ مورچے کھود کر ایک دوسرے کے خلاف بندوقیں تانے ہوئے ہیں۔ اب لگتا ہے کہ یہ فوجی تقریباً اسی مقام پر منجمد ہوگئے ہیں جہاں انھوں نے 30 سال پہلے ایک دوسرے پر بندوقیں تانی تھیں۔

اندازہ ہے کہ اب تک مشترکہ طور پر بھارت اور پاکستان کے تقریباً 2700 فوجی سیاچن کے محاذ پر اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں، اور مرنے والوں کی اکثریت دشمن کی گولی کی بجائے برفانی طوفانوں کی نذر ہوئی یا آکسیجن کی کمی کی وجہ سے بیمار ہو کر موت کی نیند سو گئی۔

دنیا کے بلند ترین جنگی محاذ کے بھارتی فوج کے ایک ہیرو کے بقول سیاچن وہ جنگ ہے جس میں ’فوجیوں کی زندگیاں اور بے شمار پیسہ بغیر کسی مقصد کے ضائع‘ ہو چکا ہے۔ جنوبی ایشیا کے امور کے مشہور امریکی ماہر سٹیفن کوہن نے شاید درست کہا تھا کہ سیاچن گلیشیئرکی کوئی فوجی اہمیت نہیں ہے اور یہ جنگ ایسے ہی ہے جیسے دو گنجے مرد آپس میں کنگھی کے لیے لڑ رہے ہوں۔

اگرسیاچن میں لڑنے والے دونوں ممالک کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوتے تو اس جنگ پر کسی کو زیادہ پریشانی نہ ہوتی۔

کوہ پیمائی کی سنہری یادوں اور تصویروں میں گھرے ہوئے 80 سال سے زیادہ عمر کے کرنل نریندر کمار کا کہنا ہے کہ پاکستان کو شمالی کشمیر میں گھسنے سے روکنے کے لیے سیاچن قابو کرنا ضروری تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Col NARENDRA KUMAR
Image caption بھارت کی طرف سے سیاچن پر پہلی کارروائی کے روح و رواں کرنل نریندر کمار اور ان کے نقشے تھے

دنیا کے دیگر دیرینہ تنازعوں کی طرح سیاچن کا مسئلہ بھی سرحدوں کے باقاعدہ تعین نہ ہونے سے شروع ہوا۔

کرنل کمار کہتے ہیں کہ سنہ 1970 کی دہائی کے آخری برسوں میں ایک جرمن کوہ پیما نے انھیں شمالی کشمیر کا ایک نقشہ دکھایا جس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کی لکیر جس مقام پر کھنچی ہوئی تھی وہ کرنل کمار کے اندازے سے بہت مختلف تھی۔ امریکی نقشہ نگاروں نے سیاچن سمیت مشرقی قراقرم کا ایک بڑا حصہ پاکستان کے حصے میں ڈال رکھا تھا۔

’میں نے اس نقشے کی ایک نقل خریدی اور اسے سیدھا بھارت کے ملٹری آپریشن کے ڈائریکٹر جنرل کو بھجوا دیا۔ میں نے انھیں لکھا کہ میں کوہ پیمائی کی ایک مہم لے کر اس خطے میں جانا چاہتا ہوں تا کہ نقشے کو درست کر سکوں۔‘

حقیقت یہ تھی کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے کئی معاہدے ہونے کے باوجود کشمیر کے شمال میں کسی نے ابھی تک سرکاری طور پر ’لائن آف کنٹرول‘ کا تعین نہیں کیا تھا۔ پاکستان اور بھارت اپنی اپنی مرضی کے نقشے شائع کر رہے تھے اور شمالی کشمیر کے علاقوں کو اپنے اپنے ملک کا حصہ دکھا رہے تھے۔

چونکہ پاکستان کے اتحادی ملک چین کی سرحد قراقرم سے ملتی تھی، اس لیے پاکستان نے اس علاقے میں سرحدیں طے نہ ہونے سے پیدا ہونے والے خلا کا فائدہ اٹھانے میں پہل کر دی۔ یوں ’کوہ پیمائی برائے سیاست‘ کا آغاز پاکستان نے کیا۔

اور پاکستان 70 کی دہائی کے دوران بین الاقوامی کوہ پیماؤں کو سیاچن گلیشیئر کے ارد گرد کے پہاڑوں پر جانے کی اجازت دے کر اس خیال کو تقویت دیتا رہا کہ یہ علاقہ پاکستان میں شامل ہے۔

اس مقام پر کرنل کمار نے بھارتی فوج کے اندر خطرے کی گھنٹی بجا دی اور خود سیاچن گلیشیئر پر مہم جوئی کی ٹھان لی۔

لیکن جب کرنل کمار کو سنہ 1978 میں پاکستان کی مہم جوئی کے خلاف بھارتی مہم شروع کرنے کی اجازت ملی تو یہ خبر سرحد پار پاکستان تک بھی پہنچ گئی۔

’جب ہم سیاچن پہنچے تو ہم کیا دیکھتے ہیں کہ پاکستانی ہیلی کاپٹر ہمارے سر کے اوپر چکر لگا رہے ہیں، اور ان سے رنگین دھواں نکل رہا ہے،‘ کرنل کمار نے مسکراتے ہوئے کہا۔

پاکستانی ہیلی کاپٹروں کی پروازوں اورگلیشیئر کے ارد گرد کے پہاڑوں پر موجود کُوڑا دیکھنے کے بعد کرنل کمار کو یقین ہوگیا کہ پاکستان بڑی تیزی کے ساتھ اس علاقے پر اپنا کنٹرول بڑھا رہا ہے۔

کرنل کمار شکایت کرتے ہیں کہ شروع شروع میں بھارتی جرنیل ان کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے تھے۔ آخر سنہ 1981 میں کرنل کمار کو چین کی سرحد تک پھیلے ہوئے اس گلیشیئر پر جانے کی اجازت مل گئی۔

اس مرتبہ ان کی مہم جوئی کی خبر پاکستان کو نہ ہوئی اور پھر ایک سال بعد جب انھوں نے اپنی مہم کی داستان کوہ پیمائی کے ایک رسالے میں تحریر کی تو اس سے بھارت کے اس دعوے کو تقویت ملی کہ پاکستان سیاچن پر کوئی گڑ بڑ کر رہا ہے۔

جب یہ واضح ہو گیا کہ اب بھارتی فوج پوری طرح سیاچن کے معاملے میں مستعد ہو گئی ہے تو پاکستان نے بھی اس خطے پر اپنا حق جتلانے کی ٹھان لی۔ پاکستان اپنے ارادوں میں کامیاب بھی ہو جاتا اگر بھارتی خفیہ اداروں کو یہ پتہ نہ چلتا کہ سنہ 1984 کے اوائل میں کچھ پاکستانی برطانیہ میں کس قسم کی خریداری کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سیاچن پر پاکستانی اور بھارتی فوجیوں کا سب سے بڑا دشمن برفانی موسم ہے

کرنل کمار نے ہنستے ہوئے کہا ’ہمیں خبر ہوئی کہ کچھ پاکستانی سرد پہاڑوں میں پہننے والے مخصوص کپڑوں کی ایک بڑی کھیپ لندن میں خرید رہے ہیں۔‘

بعد کے برسوں ایک پاکستانی کرنل نے تسلیم کیا کہ انھوں نے یہ حماقت کی تھی کہ وہ لندن کی انھی دکانوں سے یہ مال خرید رہے تھے جہاں سے بھارتی بھی خریداری کر رہے تھے۔

بھارت نے فوری طور پر اپنے فوجی سیاچن روانہ کر دیے اور یوں بھارت پاکستان سے ایک ہفتہ پہلے گلیشیئر پر پہنچ گیا۔ پاکستان کے پہنچنے سے پہلے ہی بھارتی فوجیوں نے گلیشیئر اور اس سے ملحقہ سالٹورو کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔ سیاچن گلیشیئر پر ایک اہم بھارتی چوکی کا نام کرنل نریندر کے نام پر ’کمار بیس‘ رکھا گیا ہے۔

اس کے بعد پاکستان کی طرف سے بھارتی فوج کو یہاں سے نکالنے کی غرض سے کئی جوابی کارروائیاں ہو چکی ہیں جو سب ناکام ہوئیں۔ بریگیڈیئر پرویز مشرف کی سربراہی میں کی جانے والی ایک مہم بھی ایسی ہی ناکام مہمات میں سے ایک تھی۔

سنہ 2003 کے جنگ بندی کے معاہدے کے بعد اب پاکستان سیاچن پر بھارت کا قبضہ چھڑانے کی کوشش ترک کر چکا ہے۔

اگرچہ دونوں اطراف نے سیاچن پر پائے جانے والے شدید موسمی حالت سے نمٹنا سیکھ لیا ہے، لیکن اس کے باوجود ہر سال یہاں موسم درجنوں فوجیوں کی جان لے لیتا ہے۔

چونکہ بھارت نے کا قبضہ زیادہ بلند چوٹیوں پر ہے اس لیے اسے وہاں رسد پہنچانے میں پاکستان کے مقابلے میں بہت زیادہ اخراجات اٹھانا پڑتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ آج کل بھارت کو روزانہ تقریباً دس لاکھ ڈالر خرچ کرنا پڑتے ہیں۔

بھارتی فوج کے ایک ریٹائرڈ افسر کا کہنا ہے کہ ’جتنی رقم ہم سیاچن پر خرچ کر چکے ہیں، ہم اس سے آدھے ملک کو بجلی اور پینے کا صاف پانی مہیا کر سکتے تھے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کی فوجیں ذرائع ابلاغ کو سیاچن گلیشیئر پر محدود رسائی دے کر یہ یقینی بناتی ہیں کہ لوگ اس سلسلے میں صرف ’بہادری کے قصے‘ ہی سنیں۔

اور جب بھی کوئی بری خبر آتی ہے اسے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی اور اور یہ خبر ہمیشہ کی طرح بھلا دی جاتی ہے۔ حال ہی میں سیاچن میں ایک برفانی طوفان میں پاکستان کے ایک سو چالیس فوجی مارے گئے، لیکن کچھ دنوں بعد یہ خبر بھی بھُلا دی گئی۔

کشمیر کا تنازع پاکستان اور بھارت کے دمیان ایسا تنازع ہے جو منجمد ہو چکا ہے، اور سیاچن اس منجمد تنازعے کا سرد ترین مقام ہے۔ پاکستان اور بھارت میں سے کوئی بھی اس کے حل کے لیے پہلا قدم اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔

بھارتی خفیہ ادارے کے ایک سابق سینیئر افسر کا خیال ہے کہ ’سیاچن پر اس وقت تک کوئی ہِل جُل نہیں ہو گی جب تک باقی متنازع معاملات پر کوئی حرکت نہیں ہوتی۔‘

دریں اثنا کرنل نریندر کمار کہتے ہیں کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی کوہ پیماؤں کو سیاچن جانے کی اجازت دے کر اس منجمد محاذ پر اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرے۔

اسی بارے میں