روس کے حامی فوجیوں نے یوکرین کی دھمکی کو نظر انداز کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption روس حامی فوجیوں نے گذشتہ کئی دنوں سے مشرقی یوکرین میں سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر رکھا ہے

روس کے حامی فوجیوں نے یوکرین کی دھکمیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مشرقی یوکرین کی سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر جاری رکھا ہے۔

واضح رہے کہ یوکرین نے روس کے حامی فوجیوں کو عمارت خالی کرنے کے لیے ڈیڈ لائن دی تھی اور کہا تھا کہ عمارتوں کو خالی کر دیں ورنہ ان کے خلاف یوکرین فوجی کاروائی کرے گا۔

یوکرین کے عبوری صدر نے کہا تھا کہ اگر سرکاری عمارتیں گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح چھ بجے تک خالی نہیں کی جاتیں تو فوجی کارروائي کی جائے گي۔

روسی اقدامات اس کے عدم تحفظ کا مظہر ہیں: اوباما

اس سے قبل اتوار کو روس حامی فوجیوں کے ساتھ شہر کے نواحی علاقوں میں جھڑپ کے دوران یوکرین کے کم از کم ایک افسر کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

دوسری جانب روس نے یوکرین کے حکام سے کہا ہے کہ وہ مشرقی یوکرین میں روس کے حامی مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کرے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں روس کے سفیر وٹالی چُورکن نے کیئف کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ’خالص مذاکرات‘ شروع کرے۔

تاہم یوکرین کے سفیر یوری سرگیئف نے الزام عائد کیا کہ ماسکو نے مشرقی یوکرین میں مصنوعی طریقے سے بحران پیدا کیا ہے۔

یوکرین کی حکومت نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ پیر کو روس کے حامیوں کے خلاف فوجی کارروائی کرے گی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یوکرین کے صدر کے اعلان کیا ہے کہ روس کے حامی علیحدگی پسند اسلحہ پھینک دیں اور سرکاری عمارات کا قبضہ چھوڑ دیں۔

مشرقی یوکرین میں روسی حامیوں نے گذشتہ ہفتے میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا ہے ۔

روس کے سفیر وٹالی چُورکن کا کہنا تھا کیئف کی خود ساختہ حکومت میں نازی اور یہود دشمن عناصر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دی ہینچ مین آف میدان (احتجاجی تحریک) کو اپنے ہی لوگوں پر حملے روکنے ہوں گے۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ مشرقی یوکرین کے مظاہرین کے خدشات کو اہمیت ہی نہیں دی جا رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یوکرین کی بحران پر سلامتی کونسل کا یہ دسواں اجلاس ہے

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ بھی اس بحران پر بات کرنے کے لیے پیر کو ملاقات کرنے والے ہیں۔

اس موقعے پر امریکہ نے کہا ہے کہ روس علاقے میں ’جھوٹ‘ پھیلا رہا ہے اور گذشتہ ہفتے کے واقعات اس سے قبل کرائمیا کے الحاق والی صورتِ حال کی عکاسی کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی مستقل نمائندہ سمینتھا پاور نے کہا ہے کہ ’ہم جانتے ہیں اس کے پیچھے کون ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ جمعرات کو جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ ضرور شریک ہوگا۔

تاہم انھوں نے کہا کہ اگر مذاکرات کامیاب ہونے ہیں تو روس کو یوکرین کی مشرقی سرحد کے ساتھ 40 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کی وضاحت دینا ہوگی۔

یوکرین کی بحران پر سلامتی کونسل کا یہ دسواں اجلاس ہے۔ یہ اجلاس روس نے بلایا تھا جو کیئف کی حکومت کی جانب سے علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائی کی مخالفت کر رہا ہے۔

مشرقی یوکرین میں روسی زبان بولنے والوں کی بڑی تعداد آباد ہے اور روس کے حامی صدر یانوکوچ کی معزولی کے بعد سے یہاں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی بارے میں