’ایران نے یورینیم کے ذخائر نصف کر دیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایران نے نومبر میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ پابندیوں میں نرمی کے بدلے یورینیم کی افزودگی کو محدود کرے گا

جوہری امور کے نگراں عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ ایران نے معاہدے کے مطابق اپنے افزودہ کیے گئے یورینیم کے ذخائر میں سے نصف کو ضائع کر دیا ہے۔

آئی اے ای اے چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے لیے ایران کی وفاداری کا جائزہ لے رہا تھا۔

امریکہ کو اختیار ہے کہ وہ آئی اے ای اے کی اس رپورٹ تناظر میں ایران کے 45 کروڑ ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کر دے۔

ایران نے نومبر میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ پابندیوں میں نرمی کے بدلے یورینیم کی افزودگی کو محدود کرے گا۔

چھ عالمی طاقتوں کو خدشہ ہے کہ ایران کا افزودہ کردہ یورینیم جوہری بم بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری منصوبہ پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

آئی اے ای اے کی ایک خفیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے اپنے اعلیٰ درجے کے افزدوہ یورینیم کے نصف ذخیرے کو کم اثر بنا دیا ہے۔

ویانا میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس اطلاع کو مغرب میں مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جائے گا کیونکہ اس کے بعد اب ایران کو مستقبل میں جوہری بم بنانے میں زیادہ وقت لگے گا۔

امریکی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے ماضی میں جوہری پروگرام کی پاداش میں منجمد کیے گئے ایرانی اثاثوں کی ایک قسط جاری کی جائے گی کیونکہ ’تمام فریق اپنے عہد پورے کریں گے۔‘

سفارت کاروں نے بی بی سی کو آئی اے ای اے کی رپورٹ کے نتائج کی تصدیق کی ہے، تاہم مکمل رپورٹ آئندہ ہفتے شائع ہوگی۔

آئی اے ای اے کے معائنہ کار ایران میں ہیں اور اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ایران چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے معاہدے پر عمل کر رہا ہے یا نہیں۔

اس عارضی معاہدے پر جنوری میں عمل درآمد شروع ہوا تھا۔

امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی آئندہ ماہ مئی میں ایران کے ساتھ نئے معاہدے کی تشکیل کا آغاز کریں گے۔

عالمی طاقتیں چاہتی ہیں کہ ایران یورینیم کی مقدار میں مستقل کمی کر دے اور اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ رسائی دے۔

ایران کے رہبرِ اعلی آیت اللہ خامنہ ای نے عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کی تھی تاہم خبردار کیا تھا کہ ایران اپنا جوہری پروگرام ترک نہیں کرے گا۔

اسی بارے میں