غیر ملکی ڈاکٹروں کے امتحان سخت

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ہر سال 13 سو غیر ملکی ڈاکٹر این ایچ ایس کا امتحان پاس کرتے ہیں

برطانیہ میں ایک نئی تحقیق میں سفارش کی گئی ہے کہ نیشنل ہیلتھ سروس کے لیے کام کرنے کے خواہش مند غیر ملکی ڈاکٹروں کے امتحانات کو مذید سخت بنایا جائے۔

یونیورسٹی کالج لندن کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بین الاقوامی ڈاکٹروں اور برطانیہ میں تربیت پانے والے ڈاکٹروں کی کارکردگی میں ’فرق‘ پایا جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق ’بین الاقوامی ڈاکٹروں کے لیے این ایچ ایس میں داخلے کے امتحان پاس کرنے کے لیے درکار نمبر خاصے زیادہ ہونے چاہییں۔‘

غیر ملکی ڈاکٹروں کی تنظیم ’برٹش انٹرنیشنل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن‘ نے تحقیق سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ تمام ڈاکٹروں کے لیے امتحان کا ایک ہی معیار ہونا چاہیے۔

برطانیہ کی جنرل میڈیکل کونسل کے کہنے پر کی گئی مذکورہ تحقیق کے مطابق ہر سال 13 سو غیر ملکی ڈاکٹر این ایچ ایس کا امتحان پاس کرتے ہیں جس میں ان کی طبی صلاحتیوں اور انگریزی زبان پر عبور کو پرکھا جاتا ہے۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق پاس ہونے والے ڈاکٹروں کی کارکردگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں نصف تعداد ایسے ڈاکٹروں کی ہوتی ہے جنھیں اس امتحان میں کامیاب نہیں قرار دیا جانا چاہیے تھا۔ اس بنیاد پر تحقیق کی سفارش یہ ہے کہ غیر ملکی ڈاکٹروں کے لیے ٹیسٹ میں کامیاب ہونے کے لیے درکار نمبر 63 فیصد سے بڑھا کر 78 فیصد کیے جائیں۔

این ایچ ایس میں ملازمت کرنے والے ایسے ڈاکٹروں کی تعداد 95 ہزار ہے جنھوں نے میڈیکل کے امتحانات دیگر ممالک سے پاس کیے ہیں۔ یہ تعداد این ایچ ایس سے منسلک ڈاکٹروں کی کُل تعداد کا ایک چوتھائی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ڈاکٹر پھولوں کی طرح ہوتے ہیں: نیال ڈکسن

واضح رہے کہ اس سال موسم گرما سے غیر ملکی ڈاکٹروں کے لیے انگریزی زبان کا امتحان بھی سخت بنایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں جنرل میڈیکل کونسل کے سربراہ نیال ڈکسن نے بی بی سی کو بتایا کہ غیر ملکی ڈاکٹروں میں کئی ڈاکٹر ایسے ہیں جو خود تسلیم کرتے ہیں کہ انھیں برطانیہ کے ہسپتالوں میں کام کرنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

نیال ڈکسن کی تجویز ہے کہ ہمیں اس سلسلے میں مذید اقدامات کی ضرورت ہے تا کہ ہم کام کی غرض سے برطانیہ آنے والے ڈاکٹروں کی مدد کر سکیں اور انھیں معلوم ہو کہ ایک مختلف معاشرے اور کلچر میں کیا مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

’ّڈاکٹر پھولوں کی طرح ہوتے ہیں۔ ہم انہیں ایک باغ سے اکھاڑ کر دوسرے باغ میں لگا کر یہ امید نہیں کر سکتے کہ وہ نئے باغ میں بھی پھلے پھولیں گے۔‘

’انہیں مدد کی ضرورت ہوتی، اور میرا خیال نہیں کہ ہم بطور ملک یا این ایچ ایس بطور ادارہ برطانیہ آنے والے غیر ملکی ڈاکٹروں کی مناسب مدد کر رہے ہیں۔‘

مسٹر ڈکسن نے غیر ملکی ڈاکٹروں کو سراہتے ہوئے این ایچ ایس کے لیے ان کی خدمات کو ’شاندار‘ قرار دیا، تاہم ان کہنا تھا کہ ہمیں برطانیہ میں زیادہ سے زیادہ ڈاکٹر پیدا کرنے چاہییں اور غیر ملکی ڈاکٹروں پر انحصار کو کم کرنا چاہیے۔

اسی بارے میں