یوکرین:’باغی‘ زیرِقبضہ عمارتیں چھوڑنے سے انکاری

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption روس نواز علیحدگی پسند زیرِ قبضہ عمارتیں چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں

یوکرین میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے طے پانے والا عالمی معاہدے کی راہ میں آغاز میں ہی رکاوٹیں پیدا ہونا شروع ہوگئی ہیں اور مشرقی یوکرین میں سرکاری عمارتوں پر قابض روس نواز کارکنوں نے پہلے یوکرینی حکومت سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

اس صورتحال میں امریکہ نے روس کو متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ اس معاہدے کی پاسداری میں ناکام رہتا ہے تو اس پر مزید سخت اقتصادی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔

روس نے جواباً کہا ہے کہ امریکہ اس معاملے میں روس سے ’قصووار طالبعلم‘ کا سا سلوک کر رہا ہے۔

جمعرات کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں طے پانے والے معاہدے میں روس، یوکرین، یورپی یونین اور امریکہ کے نمائندوں میں اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ یوکرین میں مسلح افراد کے تمام غیر قانونی دستوں کو ختم کر دیا جائے اور سرکاری عمارتوں پر قبضے بھی ختم کر دیے جائیں۔

معاہدے میں یوکرین کے تمام حکومی مخالف مظاہرین کو معافی دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا۔

تاہم اب روس نواز علیحدگی پسند زیرِ قبضہ عمارتیں چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں۔ یوکرین کے مشرقی شہر دونستیک میں علیحدگی پسندوں کے ترجمان نے کہا ہے کہ کیئف کی حکومت ’غیرقانونی‘ ہے اور وہ اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک حکومت گر نہیں جاتی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کئیف کے میدان سکوائر میں خیمہ زن وہ مظاہرین پہلے اپنے کیمپ ختم کریں جنھوں نے روس نواز سابق یوکرینی صدر وکٹر یانوکووچ کی حکومت گرانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

اس صورتحال کے تناظر میں جمعے کو امریکی صدر کے دفتر کی جانب سے روس سے کہا گیا ہے کہ وہ علیحدگی پسندوں پر اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرے۔

قومی سلامتی کے امور کے لیے امریکی صدر کی مشیر سوزن رائس نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس معاہدے پر عمل کرنے میں ناکام رہا تو نئی اقتصادی پابندیوں کا ہدف ’روسی معیشت کے اہم شعبے‘ ہوں گے۔

واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ روس ان عناصر پر خاصا اثر رکھتا ہے جو مشرقی یوکرین میں عدم استحکام کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔‘

سوزن رائس نے کہا کہ ’اگر ہم روس کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل ہوتا نہیں دیکھتے تو ہم اور ہمارے یورپی ساتھی روس پر مزید پابندیاں لگانے کے لیے تیار ہیں۔‘

اس امریکی بیان کے ردعمل میں روسی صدر ولادیمیر پیوتن کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے کہا ہے کہ ’آپ روس سے ایک قصوروار طالبعلم کی طرح کا سلوک نہیں کر سکتے کہ جسے دکھانا ہو کہ اس نے گھر کا کام کر لیا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی زبان قابلِ قبول نہیں ہے۔

خیال رہے کہ یوکرین میں روس نواز حکومت گرنے کے بعد سے کشیدگی جاری ہے۔ حکومت گرنے کے بعد یوکرین کے علاقے کرائمیا نے روس سے الحاق کر لیا تھا۔ کرائمیا میں عوام کی اکثریت روسی زبان بولتی ہے۔ روس کے اس اقدام پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے سخت ردِ عمل سامنے آیا تھا۔

اس کے بعد مشرقی یوکرین میں روس نواز باغیوں نے سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا تھا اور اب وہ نو شہروں میں سرکاری عمارتوں پر قابض ہیں۔

اسی بارے میں