یمن: فضائی کارروائی میں 13 شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’جزیرہ نما عرب میں القاعدہ‘ کا قیام 2009 میں یمن اور سعودی عرب میں القاعدہ کے گروہوں کے ادغام کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا

یمن میں سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ایک فضائی کارروائی میں القاعدہ کے 13 مشتبہ شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر کو فضائی کارروائی ملک کے وسطی علاقے البلاد میں کئی گئی۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فضائی کارروائی کس نوعیت کی تھی تاہم یمن میں امریکہ شدت پسندوں پر متعدد بار ڈرون حملے کر چکا ہے۔

کارروائی میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں شدت پسند سفر کر رہے تھے۔

بعض اطلاعات کے مطابق ایک دوسری گاڑی میں سوار تین عام شہری بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

البلاد کے علاقے میں حال ہی میں شدت پسندی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ رواں ہفتے کے شروع میں القاعدہ کے مشتبہ شدت پسندوں نے ڈپٹی گورنر کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

یمن کی وزارتِ دفاع کی ویب سائٹ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ فضائی کارروائی میں بڑی تعداد میں ’دہشت گرد‘ ہلاک ہو گئے۔

سکیورٹی ذرائع نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ فضائی کارروائی میں ایک کار کو نشانہ بنایا گیا جس میں القاعدہ کے 13 مشتبہ شدت پسند ہلاک ہو گئے۔

امریکہ نے یمن میں القاعدہ کے خلاف کارروائیوں میں ڈرون حملوں کے استعمال میں اضافہ کیا ہے۔

یمن کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں امریکہ ڈرون حملے کرتا ہے لیکن اس نے کبھی ایسی کارروائیوں پر کوئی بیان نہیں دیا۔

’جزیرہ نما عرب میں القاعدہ‘ کا قیام 2009 میں یمن اور سعودی عرب میں القاعدہ کے گروہوں کے ادغام کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکہ نے یمن میں القاعدہ کے خلاف کارروائیوں میں ڈرون حملوں کے استعمال میں اضافہ کیا ہے

امریکہ کی جانب سے اس گروپ کو شدت پسند تنظیم القاعدہ کی سب سے خطرناک شاخوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے اور یمن کی حکومت اس گروپ کی سرکوبی کی کوششیں کر رہی ہے۔

گذشتہ ماہ یمن کے صدر عبدالرب منصور ہادی نے ملک میں ڈرون حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان حملوں میں غلطیوں کے باوجود القاعدہ کی سرگرمیوں کو محدود کرنے میں بہت مدد ملتی ہے۔

حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیمیں ڈرون حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کی وجہ سے ان کی شدید مخالف ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں شادی کی دو تقریبات پر ہونے والے ڈرون حملے میں 16 عام شہری ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے تھے۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ شادی کی تقریب کی غلطی سے القاعدہ کے ارکان کی موجودگی کے طور پر تصدیق کی گئی تھی۔

اسی بارے میں