’امدادی تنظیموں کو اسلامی شدت پسندی سے خطرہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چیریٹی کمیشن شام کے لیے چندہ جمع کرنے والی کئی خیراتی اداروں کی چان بین کر رہا ہے

برطانیہ کی چیریٹی کمیشن کے چیئرمین نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ میں امدادی تنظیموں کو سب سے ’زیادہ خطرہ‘ اسلامی شدت پسندوں سے ہے۔

چیریٹی کمیشن کے چیئرمین ولیم شوکروس کا کہنا ہے کہ ان کی کمیشن ان امدادی تنظیموں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے جو شام میں حکومت کے خلاف لڑنے والے مختلف گروہوں کو امداد بھیج رہی ہیں۔

سنڈے ٹائمز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ اس وقت اسلامی شدت پسندوں کی جانب سے امداد بھیجے جانے کا عمل زیادہ نہیں ہے لیکن یہ آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔

کمیشن کے چیئرمین نے برطانوی وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ وہ دہشت گردی کی جانب مائل افراد کو امدادی تنظیمیں کھولنے سے روکنے کے لیے اقدامات کریں۔

واضح رہے کہ اس وقت برطانوی قانون کے تحت وہ افراد جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے جرائم میں سزایافتہ ہیں ان پر امدادی تنظیم چلانے یا اس کے ٹرسٹ میں شامل ہونے پر کوئی قدغن نہیں ہے۔

ولیم شوکروں کا کہنا ہے ’یہ مضحکہ خیز بات ہے کہ دہشت گردی کے جرم میں سزا پانے والے فرد پر کسی امدادی تنظیم کے ٹرسٹ میں شامل ہونے کی کوئی پابندی نہیں ہے۔‘

چیریٹی کمیشن شام کے لیے چندہ جمع کرنے والے کئی خیراتی اداروں کی چھان بین کر رہا ہے۔

ولیم شوکروس نے امدادی اداروں کو الرٹ رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

انھوں نے کہا ’مجھے یقین ہے کہ شام اور صومالیہ جیسے علاقوں میں خیراتی اداروں کے لیے اس بات کو ہمیشہ جاننا مشکل ہوتا ہے کہ ان کی امداد کہاں پر استعمال ہو رہی ہے لیکن انھیں خاص طور پر الرٹ رہنا پڑے گا۔‘

ان کا کہنا تھا ’اسلامی شدت پسندی اور خیرات کے غلط استعمال کا مسئلہ ایسا نہیں جسے ہمیں وسیع پیمانے پر سامنا ہے لیکن یہ ممکنہ طور پر بہت ہی خطرناک ہے جو کہ بڑھ رہا ہے۔‘

سنہ 2012 میں چیریٹی کمیشن کے چیئرمین بننے کے بعد شوکروس نے اپنے پہلے انٹرویو میں کہا کہ ’ان کے ادارے کی مالی معاونت غیر مستحکم ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر کمیشن کی کارکردگی کو بہتر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں مستحکم مالی معاونت اور قانونی اختیارات کی ضرورت ہوگی۔

اسی بارے میں