جنوبی کوریا:’عملہ گھبراہٹ میں بروقت فیصلہ کرنے میں ناکام رہا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جنوبی کوریا میں گذشتہ بدھ کو ڈوبنے والی مسافر بردار کشتی کے عملے کے درمیان ہونے والی بات چیت سے پتہ چلا ہے کہ عملے کے ارکان ہنگامی صورتحال میں گھبرا گئے تھے اور صحیح وقت پر فیصلہ نہیں کر پائے تھے۔

اتوار کو جاری کی جانے والی تفصیلات کے مطابق عملے کا ایک رکن بار بار یہ پوچھتا رہا کہ اگر کشتی خالی کرنے کا حکم دیا جائے تو کیا مسافروں کو بچانے کے لیے مطلوبہ تعداد میں چھوٹی کشتیاں موجود ہیں۔

’سیول‘ نامی اس فیری کے کپتان کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے جنہوں نے تسلیم کیا ہے کہ کشتی خالی کرنے کا حکم دینے میں ان سے تاخیر ہوئی کیونکہ انھیں مسافروں کے ڈوب کر بہہ جانے کا خدشہ تھا۔

یہ کشتی بدھ کو شمال مغربی علاقے انچیون سے جنوبی سیاحتی جزیرے جیجو کی طرف جا رہی تھی کہ دو گھنٹے کے قلیل وقت میں الٹ کر سمندر کی تہہ میں غرق ہوگئی۔

اس پر کل 476 افراد سوار تھے اور حادثے کے بعد 174 مسافروں کو بچا لیا گیا تھا۔

تین دن کی کوشش کے بعد اب غوطہ خور غرقاب کشتی میں داخل ہونے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور اب تک انھوں نے وہاں سے 30 لاشیں نکالی ہیں جن کے بعد ہلاک شدگان کی کل تعداد 62 تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم اب بھی اس کشتی پر سوار 240 افراد لاپتہ ہیں۔

فیری ڈوبنے سے پہلے عملے اور ٹریفک کنٹرولر کے درمیان ہونے والی بات چیت سے صاف پتہ چلتا ہے کہ صحیح وقت پر فیصلہ کرنے میں تاخیر ہوئی۔

بات چیت کی تفصیلات کے مطابق کنٹرولر نے عملے سے کہا کہ وہ براہِ مہربانی باہر نکلیں اور مسافروں کو لائف جیکٹ پہننے دیں۔ جس پر عملے کے رکن کا سوال تھا کہ اگر فیری کو خالی کرتے ہیں تو کیا آپ ان لوگوں کو نکال سکیں گے؟

اس پر کنٹرولر نے جواب دیا کہ ’انہیں کم سے کم لائف جیکٹ تو دیں اور انہیں نکلنے دیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption غوطہ خور غرقاب کشتی میں داخل ہونے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور اب تک انھوں نے وہاں سے 26 لاشیں نکالی ہیں

جواب میں عملے کے رکن کے دوبارہ سوال کیا کہ ’اگر فیری کو خالی کرایا گیا تو کیا لوگوں کو بچا لیا جائے گا؟

کنٹرولر نے دوبارہ اپنی بات دہرائی اور کہا کہ ’انہیں ایسے ہی مت نکالو۔ لائف جیکٹ دو۔ ہمیں حالات کے بارے میں واضح معلومات نہیں۔ آخری فیصلہ کپتان کو کرنا ہے۔‘

تاہم عملے کا رکن پھر یہ جاننے پر مصر رہا کہ ’اگر ان لوگوں کو نکالا گیا تو کیا انہیں بچا لیا جائے گا؟‘

اس حادثے کی تفتیش کرنے والے اب اس جانب توجہ دے رہے ہیں کہ فیری کو بہت تیزی سے موڑا گیا تھا جس کی وجہ سے وہ پلٹ گئی تھی۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ فیری کو تیزی سے موڑنے کی وجہ سے اس کا توازن بگڑا ہوگا۔

اس بات کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہے کہ اگر فیری کو وقت پر خالی کرا لیا جاتا تو لوگوں کی جان بچائی جا سکتی تھی؟

ادھر کشتی کے حادثے میں مرنے والے افراد کے لواحقین نے امدادی کارروائی پر احتجاج کیا ہے۔

ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین ملک کے جنوب مغربی حصے میں واقع جزیرے جیجو میں موجود ہیں۔ ان میں سے سینکڑوں نے جزیرے میں کیمپ لگائے ہوئے ہیں اور وہ امدادی کام کے حوالے سے کسی بھی نئی خبر کے منتظر ہیں۔

پولیس نے اتوار کو جزیرے جیجو سے نکل کر دارالحکومت سئیول کی جانب مارچ کرنے والے 100 افراد کو روک لیا۔

اطلاعات کے مطابق پولیس اور متاثرہ افراد کے لواحقین میں اس وقت ہاتھا پائی ہوئی جب انھوں نے سیؤل میں واقع صدارتی بلیو ہاؤس کی جانب جانے کی کوشش کی۔

Image caption کشتی کے کپتان نے تسلیم کیا ہے کہ کشتی خالی کرنے کا حکم دینے میں ان سے تاخیر ہوئی کیونکہ انھیں مسافروں کے ڈوب کر بہہ جانے کا خدشہ تھا

اس موقع پر ایک خاتون نے چیختے ہوئے کہا ’ میرے بیٹے کی لاش لے کر آؤ تاکہ میں اس کا چہرہ دیکھ کر اسے گلے لگا سکوں۔‘

ایک شخص لی ونگ گونگ نے جن کا 17 برس کا بیٹا لی جونگ ان لاپتہ ہے کہا ’ہم امدادی کارروائی کے انچارج سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ امدادی کاموں کے حوالے کچھ کیوں نہیں کیا جا رہا ہے؟۔ حکام جھوٹ بول رہے ہیں اور ایک دوسرے پر ذمہ داری عائد کر رہے ہیں؟۔‘

جنوبی کوریا میں حکام کا کہنا ہے کہ سمندر میں ڈوبنے والی مسافر بردار کشتی کے امدادی آپریشن میں دو ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے ادارے ایمرجنسی مینجمنٹ سینٹر کے سربراہ شن وون نام نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ امدادی آپریشن اگر مہینوں نہیں تو کئی ہفتے تک تو ضرور جاری رہ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس بارے میں کچھ یقین سے نہیں کہہ سکتے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایک سے دو ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔‘

ابھی تک جہاز ڈوبنے کا اصل سبب معلوم نہیں ہو سکا لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یا تو اس جہاز کا نچلا ڈھانچہ کسی چٹان سے ٹکرایا تھا یا پھر تیزی سے موڑ کاٹنے کی وجہ سے اس پر لادا سامان کھسک کر ایک طرف چلا گیا اور جہاز کا توازن بگڑ گیا اور یہ ایک طرف کو جھک گیا۔

اسی بارے میں