مشرقی یوکرین میں فائرنگ کے واقعے پر روس کا غصہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رائٹ سیکٹر نے اپنے فیس بک کے صحفے پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں

روس کے دفترِ خارجہ نے مشرقی یوکرین میں فائرنگ کے واقعے پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس کے لیے یوکرین کے قوم پرستوں کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔

روس کے سرکاری میڈیا کے مطابق سلاویانسک کے قصبے میں روس کے حامیوں کی ایک چوکی پر مسلح حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔

یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کے دوگروہوں کے درمیان تصادم میں ایک شخص ہلاک ہوا۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب یوکرین میں روس نواز گروہ جمعرات کو کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرکاری عمارتوں پر اپنا قبضہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ارٹوگریول آپاکان نے جو کیئف میں یورپ میں تعاون اور سکیورٹی کی تنظیم کے خصوصی مشن کے سربراہ ہیں، کہا کہ ان کے نائب دونیتسک میں معاہدے پر عمل درآمد کرکےکشیدگی ختم کرانے کی کوشش کریں گے۔

اس دوران روس کے حامی ٹی وی پر تصاویر دکھائیں گئیں جسے سنیچر کو روس کے حامیوں کی چوکی پر حملے کے بعد کے مناظر کے طور پر پیش کیا گیا جس میں ایک لاش بھی دکھائی گیا۔

بی بی سی اس فوٹیج کی تصدیق نہیں کر سکی ہے تاہم موقعے پر موجود خبر رساں ادارے روئٹرز کے ایک صحافی نے دو لاشیں دیکھنے کی اطلاع دی ہے۔

روئٹرز کی فوٹیج میں کئی جلی ہوئی گاڑیاں بھی دکھائی گئیں ہیں۔

روس کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس حملے کے پیچھے دائیں بازو کا گروپ رائٹ سیکٹر ہے۔ روسی ٹی وی پر غیر مصدقہ فوٹیج میں جائے وقوعہ سے برآمد شدہ اس گروپ کے رہنما دمیترو یاروش کا کارڈ دکھایا گیا۔

روس کے دفترِخارجہ نے بیان میں کہا کہ’روس کو مسلح افراد کے اس اشتعال پر غصہ ہے۔ اور اس واقعے سے کیئف کی قوم پرستوں اور شدت پسندوں کو غیر مسلح کرنے میں عدم دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔‘

رائٹ سیکٹر نے اپنے فیس بک کے صحفے پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور یہ واقعہ روس کے وفاقی خفیہ ادارے کا کیا دھرا ہے۔

یوکرین کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات ابھی ہو رہی ہیں اور اس میں ایک شخص ہلاک اور تین کو گولیاں لگنے کی بنا پر ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔

روس، یوکرین، یورپی یونین اور امریکہ نے جنیوا میں بات چیت کے دوران اس بات پر رضا مندی ظاہر کی تھی کہ غیر قانونی عسکری گروہوں کو ختم کیا جانا چاہیے اور جنھوں نے سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر رکھا ہے ان سے اسلحہ لے لینا چاہیے اور انھیں عمارت کو خالی کردینا چاہیے۔

فریقین نے یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ تمام حکومت مخالف مظاہرین کو عام معافی حاصل ہوگی۔

تاہم مظاہرین کے سیکریٹری نے دونیتسک شہر میں کہا تھا کہ کیئف کی حکومت غیر قانونی ہے اور عہد کیا کہ وہ اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک کہ حکومت اقتدار نہیں چھوڑتی۔

دریں اثنا یوکرین کے عبوری وزیرِاعظم آرسنیات سنوک نے این بی سی کے پروگرام ’میٹ دا پریس‘ میں روسی صدر ولادی میر پوتن پر دوبارہ ’سویت یونین‘ بنانے کا الزام لگایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر پوتن کامیاب ہوئے تو یہ اس صدی کی سب سے بڑی تباہی ہوگی۔

خیال رہے کہ یوکرین میں روس نواز حکومت کےگرنے کے بعد سے کشیدگی جاری ہے۔ حکومت گرنے کے بعد یوکرین کے علاقے کرائمیا نے روس سے الحاق کر لیا تھا۔

کرائمیا میں عوام کی اکثریت روسی زبان بولتی ہے۔ روس کے اس اقدام پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا تھا۔

اس کے بعد مشرقی یوکرین میں روس نواز باغیوں نے سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا تھا اور اب وہ نو شہروں میں سرکاری عمارتوں پر قابض ہیں۔

اسی بارے میں