بندوق کی لت آسانی سے نہیں چھٹ سکتی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس بات پر زیادہ بحث نہیں ہو رہی ہے کہ بندوق کتنی آسانی سے حاصل ہو سکتی ہے

پندرہ برس ہوگئے۔ یہی دن تھے، یہی ہفتہ تھا۔ کولوراڈو کے كولمبین ہائی سکول میں دو نوجوانوں نے اپنے ہی ساتھ پڑھنے والوں پر اندھادھند گولیاں برسائیں، بارہ طلبا کو ہلاک کر ڈالا ، ایک ٹیچر کو قتل کردیا اور پھر خود کو گولی مار لی۔

چھ برس ہوگئے۔ یہی دن تھے، یہی ہفتہ تھا۔ ورجینیا ٹیک میں ایک اور سر پھرے نے 32 لوگوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا تھا۔

گوگل کو اگر تھوڑا سا اور كھنگالو تو سال میں شاید ہی کوئی ایسا مہینہ نکلتا ہو جب ایسے حادثوں کی برسی نہ ملے۔

ویسے یہی دن تھے، یہی ہفتہ تھا اور ایک اور حادثہ ہوا تھا گذشتہ برس۔ امریکی کانگریس میں اسلحے پر لگام کسنے کے لیے ایک بل پیش کرنے کی کوشش ہوئی تھی جو بری طرح سے ناکام رہی۔

امریکیوں کی بندوق کی لت اتنی آسانی سے نہیں چھوٹ سکتی۔

اس لت کا آغاز بچپن میں ہی ہو جاتا ہے۔ اس ہفتے کھیلوں کے سامان کی ایک دکان میں گیا، ایک کونے میں بچوں کے ایسے رنگ برنگے ہیلمٹ سجے ہوئے تھے جس کے استعمال سے سائیکل چلاتے یا سکیٹنگ کرتے وقت انہیں چوٹ نہ لگے۔

اسی کونے میں پلاسٹک کی كلاشنكوف بھی رکھی ہوئی تھی، دیکھنے میں بالکل اصلی جیسی۔ ساتھ میں پلاسٹک کی گولیاں بھی تھیں۔ وہ کھلونا کہاں تک چوٹ پہنچاتا ہے وہ کوئی نہیں دیکھتا۔

پانچ برس پہلے نیو میکسیکو کے ایک میلے میں گیا۔ امریکی فوج نے اپنی ایک سے ایک مہلک بندوقوں کو یوں سجا رکھا تھا جیسے پرچون کی دکان والا رنگ برنگی پنيّوں میں لپیٹ کر چاکلیٹ سجاتا ہے۔

چھ ، سات اور آٹھ برس کے بچے اس کی جانب كھنچے چلے آ رہے تھے۔ کیا میں انہیں چلا سکتا ہوں ؟ ایک بار میں اس میں سے کتنی گولیاں نکلتی ہیں ؟ گولیاں فٹ کیسے ہوتی ہیں ؟ کیا میں انہیں گھر لے جا سکتا ہوں ؟ والدین پنے نونہالوں کے ایسے سوالات پر پھولے نہیں سما رہے تھے۔

ہر شہر میں ایسے کلب ہیں جہاں آپ شام میں جا کر مجسموں پر گولیاں چلا سکتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اس سے ذہنی تناؤ میں کمی آتی ہے!

ایک امریکی بلاگر نے لکھا ہے: ’حقیقت یہ ہے کہ ہم امریکیوں کو مارنا اچھا لگتا ہے۔ ہمارے ہیرو وہ ہیں جو دنیا بھر میں لوگوں کی جان لیتے ہیں۔ جہاں بھی امریکہ کو فائدہ نظر آتا ہے ہم مارتے ہیں اور قانونی منظوری کے ساتھ مارتے ہیں۔‘

گذشتہ ماہ کنیٹیکٹ میں 18 برس کی ایک لڑکی کو اس وقت گرفتار کر لیا گيا جب اس کے دوستوں سے پتہ چلا کہ وہ اپنے ہی سکول میں كولمبائن ہائی سکول جیسے واقعے کو دہرانا چاہتی تھی۔ جن دو نوجوانوں نے بے گناہوں کی جان لی تھی وہی اس لڑکی کے ہیرو ہیں۔ مقدمہ جاری ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس کی دماغی حالت ٹھیک نہیں تھی۔

لیکن اس بات پر زیادہ بحث نہیں ہو رہی ہے کہ اسے بندوق کتنی آسانی سے حاصل ہو رہی تھی۔ وال مارٹ کے ایک کونے میں تیل، صابن کے ساتھ بندوقیں بھی رکھی ہوتی ہیں۔ اس نے ایک شاٹ گن پسند کی تھی، فارم بھر چکی تھی اور ڈیلیوری آنے ہی والی تھی۔

ایک حادثہ اور ہوتا۔ کچھ معصوموں کے جسم گولیوں سے بھُن جاتے، کسی کا گھونسلہ ہمیشہ کے لیے خالی ہو جاتا، سکول کے نوٹس بورڈ پر تصاویر لگ جاتیں، پھر سے ایک دو دن اخباروں کے صفحے رنگتے، ٹی وی پر بحث ہوتی اور پھر یہ کہتے ہوئے ختم ہو جاتی۔۔۔ گولی بندوق نہیں چلاتی، آدمی چلاتا ہے۔

اور پھر ہمیشہ کی طرح اگلی برسی تک یہ حادثہ بھی گوگل کے صفحات میں دفن ہو جاتا۔

اسی بارے میں