روس کا یوکرین پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنیوا معاہدہ 17 اپریل کو روس اور یوکرین کے درمیان یورپی یونین اور امریکہ کی موجودگی میں طے پایا

روس کے وزیرِ خارجہ سرگے لارووف نے یوکرین کی قیادت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے پچھلے ہفتے ہونے والے جِنیوا معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

روسی وزیرِ خارجہ نے پیر کو ماسکو میں اخباری کانفرنس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یوکرینی حکومت نے غیرقانونی اور کٹر قوم پرست گروہوں کو ہتھیاروں سے پاک نہیں کیا۔ لارووف نے اتوار کی رات سلووانک کے علاقے میں روسی حامی کیمپ پر ہونے ہونے والی جان لیوا حملے کی بھی مذمت کی اور کہا کہ یہ یوکرینی انتہا پسندوں کی کارروائی ہے۔

لارروف نے کیئف کی مرکزی شاہراہ میدان میں جاری احتجاجی مظاہروں کی بھی مذمت کی۔

اطلاعات کے مطابق اتوار کو ہونے والے اس حملے کی تفصیلات ابھی پوری طرح سے واضح نہیں ہیں، تاہم مقامی علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ یہ حملہ قوم پرست مسلح افراد نے کیا ہے۔

دوسری طرف کیئف کا کہنا ہے کہ حملہ روسی افواج کی کارروائی ہے جو دونوں گروہوں کو اکسانا چاہتی ہے۔

جنیوا معاہدہ 17 اپریل کو روس اور یوکرین کی قیادت کے درمیان یورپی یونین اور امریکہ کے نمائندوں کی موجودگی میں طے پایا۔ معاہدے کے مطابق دونوں ممالک فوری طور پر جنگ بندی کرنےکے علاوہ غیر قانونی مسلح گروہوں کو اسلحے سے پاک کرنے اور انھیں حکومتی عمارتوں خالی کرنے کے لیے بھی دباؤ ڈالیں گے۔

روس نواز شدت پسند ابھی تک کم سے کم نو شہروں میں یوکرینی حکومتی عمارتوں پر قابض ہیں۔

لارووف کے مطابق جنیوا معاہدے کی سب سے اہم شرط تشدد کو روکنا تھا اور وہی نہیں ہو پایا۔

اسی بارے میں