یوکرین کا فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ویکٹوریا نے کہا کہ کیئف کو اس بات پر ’خدشہ‘ ہے کہ روس نے اس معاملے کے پہلے ہی سے نتائج اخز کیے ہیں

یوکرین نے کہا ہے کہ وہ ملک کے مشرقی علاقے میں ہونے والے فائرنگ کے سنگین واقعے کی تحقیقات کرے گا جس کے وجہ سے اس کے اور روس کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

سنیچر کو سلاویانسک کے قصبے کے قریب روس کے حامیوں کی ایک چوکی پر مسلح حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔

روس کے دفترِ خارجہ نے فائرنگ کے اس واقعے پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس کے لیے یوکرین کے قوم پرستوں کو موردِ الزام ٹھہرایا تھا۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب یوکرین میں روس نواز گروہ جمعرات کو کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرکاری عمارتوں پر اپنا قبضہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یوکرین کی قومی سلامتی کونسل کی ڈپٹی سیکریٹری ویکٹوریا سیومار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بتانا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے کا ذمہ دار کون ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس کے پیچھے جرائم پیشہ گروپ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں مشرقی یوکرین میں جرائم میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔

ویکٹوریا نے کہا کہ کیئف کو اس بات پر ’خدشہ‘ ہے کہ روس نے اس معاملے کے پہلے ہی سے نتائج اخز کیے ہیں۔

روسی ٹی وی پر ایک شخص کا انٹرویو دکھایا گیا جس نے کہا کہ وہ رائٹ سیکٹر کا رکن ہے لیکن رائٹ سیکٹر کے ترجمان نے اس کی تردید کرتے ہوئے اسے پروپیگنڈا قرار دیا۔

اس سے پہلے روس کے دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اس حملے کے پیچھے دائیں بازو کا گروپ رائٹ سیکٹر ہے۔ روسی ٹی وی پر غیر مصدقہ فوٹیج میں جائے وقوعہ سے برآمد شدہ اس گروپ کے رہنما دمیترو یاروش کا کارڈ دکھایا گیا۔

روس کے دفترِخارجہ نے بیان میں کہا تھا کہ’روس کو مسلح افراد کے اس اشتعال پر غصہ ہے۔ اور اس واقعے سے کیئف کی قوم پرستوں اور شدت پسندوں کو غیر مسلح کرنے میں عدم دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔‘

رائٹ سیکٹر نے اپنے فیس بک کے صحفے پر ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور یہ واقعہ روس کے وفاقی خفیہ ادارے کا کیا دھرا ہے۔

روس، یوکرین، یورپی یونین اور امریکہ نے جنیوا میں بات چیت کے دوران اس بات پر رضا مندی ظاہر کی تھی کہ غیر قانونی عسکری گروہوں کو ختم کیا جانا چاہیے اور جنھوں نے سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر رکھا ہے ان سے اسلحہ لے لینا چاہیے اور انھیں عمارت کو خالی کردینا چاہیے۔

تاہم مظاہرین کے سیکریٹری نے دونیتسک شہر میں کہا تھا کہ کیئف کی حکومت غیر قانونی ہے اور عہد کیا کہ وہ اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک کہ حکومت اقتدار نہیں چھوڑتی۔

دریں اثنا یوکرین کے عبوری وزیرِاعظم آرسنیات سنوک نے این بی سی کے پروگرام ’میٹ دا پریس‘ میں روسی صدر ولادی میر پوتن پر دوبارہ ’سویت یونین‘ بنانے کا الزام لگایا تھا۔

انھوں نے کہا تھا کہ اگر پوتن کامیاب ہوئے تو یہ اس صدی کی سب سے بڑی تباہی ہوگی۔

خیال رہے کہ یوکرین میں روس نواز حکومت کےگرنے کے بعد سے کشیدگی جاری ہے۔ حکومت گرنے کے بعد یوکرین کے علاقے کرائمیا نے روس سے الحاق کر لیا تھا۔

کرائمیا میں عوام کی اکثریت روسی زبان بولتی ہے۔ روس کے اس اقدام پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا تھا۔

اس کے بعد مشرقی یوکرین میں روس نواز باغیوں نے سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا تھا اور اب وہ نو شہروں میں سرکاری عمارتوں پر قابض ہیں۔

اسی بارے میں