روس پر مزید پابندیاں عائد کرسکتے ہیں: امریکہ کی تنبیہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ اور مغربی ملک روس پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہ مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسندوں کو مدد پہنچا رہا ہے

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے روس کو متنبہ کیا ہے کہ یوکرین میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو مزید پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔

یہ بات امریکی وزیر خارجہ نے اپنے روسی ہم منصب سرگے لاوروف سے فون پر بات کرتے ہوئے کہی، جس کے دوران انھوں نے روس کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ روس نے پچھلے ہفتے جنیوا میں یوکرین پر ہونے والی کانفرنس کی ناکامی کی ذمہ داری کیئف کے رہنماؤں پر ڈالی تھی۔

اس سے قبل یوکرین کے عبوری صدر نے ملک کے مشرقی علاقے میں ایک مقامی سیاستدان سمیت دو افراد کی ہلاکت کے بعد روس کے حامی باغیوں کے خلاف دوبارہ فوجی آپریشن شروع کر دیا تھا۔

دونوں افراد کی لاشوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں تشدد کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔

یوکرین کے قائم مقام صدر الیکساندر تورچینوف کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے مقامی رہنما کا نام ولادی میر رِباک تھا جو باغیوں کے کنٹرول والے علاقے سلووينسك کے پاس مردہ پائے گئے ہیں۔

یہ واقعات ایسے وقت ہوئے ہیں جب امریکی نائب صدر جو بائڈن یوکرین کے دورے پر پہنچے ہیں۔

دارالحکومت كيئف میں یوکرین کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد بائڈن نے روس سے کہا کہ یوکرین کے بحران کو ختم کرنے کے لیے اسے ’باتیں بند کرنا چاہیے اور کام شروع کرنا چاہیے۔‘

جو بائڈن نے روس کو خبردار کیا ہے کہ اسے ’مزید اشتعال انگیز کارروائیاں‘ نہیں کرنی چاہییں ورنہ روس ’مزید تنہا‘ہو جائے گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ یوکرین کے نئے رہنماؤں کے ساتھ کھڑا ہے۔

امریکہ اور مغربی ممالک روس پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہ مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسندوں کو مدد پہنچا رہا ہے جہاں کم سے کم نو شہروں اور قصبوں میں عوامی عمارتوں پر ان لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔

یوکرین کے صدر نے ایک بیان میں دوبارہ فوجی کارروائی کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا: ’میں نے سکیورٹی اداروں سے کہا ہے کہ وہ مشرقی یوکرین میں رہنے والے یوکرینی عوام کا دفاع کرنے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں بحال کریں۔‘

ہلاک ہونے والے مقامی سیاستدان رِباک کا تعلق فادرلینڈ پارٹی سے تھا اور ان کی لاش دریا سے ملی ہے۔

یوکرین کے صدر کا کہنا تھا ’یہ جرائم روس کی جانب سے مکمل تعاون اور حمایت کے ساتھ کیے جا رہے ہیں۔‘

کیئف کی حکومت نے 16 اپریل کو سرکاری عمارات کو باغیوں کے قبضے سے چھڑانے کے لیے کارروائی کا آغاز کیا تھا تاہم ایسٹر کے تہوار پر اسے معطل کر دیا گیا تھا۔

ایک دوسرے واقعے میں یوکرین کے ایک جاسوس فوجی جہاز کو چھوٹے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔ وزراتِ دفاع کے مطابق حملے میں خودکار اسلحہ استعمال کیا گیا۔

واقعے میں کوئی زخمی یا ہلاک نہیں ہوا اور جہاز واپس کیئف پہنچ گیا ہے جسے معمولی نقصان پہنچا ہے۔

اسی بارے میں