’امن چاہیے تو حماس سے معاہدہ توڑنا ہوگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن ياہو کا کہنا تھا کہ محمود عباس یا تو اسرائیل کے ساتھ امن قائم رکھ سکتے ہیں یا حماس سے معاہدہ کر سکتے ہیں، دونوں نہیں

اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر فلسطین کے صدر محمود عباس امن چاہتے ہیں تو ان کی تنظیم الفتح کو حماس سے معاہدہ توڑنا ہوگا۔

یہ بات انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہی۔

اسرائیل اس سے پہلے فتح اور حماس کے درمیان معاہدے کے جواب میں فلسطینیوں سے امن مذاکرات ملتوی کر چکا ہے۔

امریکہ نے معاہدے کے لیے اپنی مخالفت ظاہر کی ہے لیکن وہ ابھی امن بات چیت کے خاتمے کے لیے تیار نہیں ہے اور ’اب بھی کوشش‘ کر رہا ہے۔

فتح اور حماس کے درمیان بدھ کو جو معاہدہ ہوا ہے اس کے مطابق دونوں تنظیمیں کچھ ہفتوں میں مشترکہ حکومت بنانے اور چھ ماہ بعد الیکشن کرانے پر متفق ہو گئی ہیں۔

دونوں تنظیموں میں 2006 میں حماس کے پارلیمانی انتخاب جیتنے کے بعد سے کشیدگی تھی جس کے بعد حماس نے محمود عباس اور فتح کی حامی وفادار فورسز کو 2007 میں غزہ کی پٹی سے بے دخل کر کے وہاں حکومت بنا لی تھی۔

نتن ياہو نے بی بی سی کے مشرق وسطیٰ کے ایڈیٹر جیریمی بوین سے کہا کہ عباس یا تو ’اسرائیل کے ساتھ امن قائم رکھ سکتے ہیں یا حماس سے معاہدہ کر سکتے ہیں، دونوں نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں سے تبھی امن مذاکرات کے آغاز کرے گا جب ’وہ دہشت گردی کا راستہ چھوڑ دیں۔‘

نتن ياہو نے کہا، ’جب تک میں اسرائیل کا وزیر اعظم ہوں، میں کبھی ایسی فلسطینی حکومت سے بات چیت نہیں کروں گا جسے حماس کے دہشت گردوں کی حمایت ہو جو ہمیں برباد کرنا چاہتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا: ’یہ ان کا فیصلہ ہے، اسرائیل کے ساتھ امن کے معاملات کرنے کے بجائے انھوں نے حماس کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ ایک ایسی تنطیم کے ساتھ جو اسرائیل کو تباہ کرنے کے لیے مصروف عمل ہے۔ یہ طے ہے کہ یا وہ اسرائیل کے ساتھ امن کریں یا حماس کے ساتھ منسلک ہو جائیں۔ فلسطینی حکام دونوں کو ساتھ لے کر نہیں چل سکتے۔‘

فلسطین کی جانب سے مذاکرات کار صائب اراکات نے زور دیا ہے کہ ’فلسطینی سمجھوتہ اندرونی معاملہ ہے۔‘

انھوں نے خبر رساں ایجنسی اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’اسرائیل کو اس معاملے میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘

غزہ میں حماس کی قیادت والی حکومت کے وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ انھیں نتن ياہو کے فیصلے پر تعجب نہیں ہے: ’اسرائیل نے وہی کیا جس کی توقع کی جارہی تھی، یہی ان کی عادت ہے اور یہ طے ہے کہ وہ فلسطینی عوام کو متحد نہیں دیکھنا چاہتے، بلکہ ان کو بٹے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

اس سے پہلے صدر عباس نے کہا کہ ’مفاہمت اور امن کے درمیان کوئی خرابی نہیں ہے۔‘

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے جمعرات کو محمود عباس سے بات کی اور انھیں اپنی ’ناپسندیدگی‘ کے بارے میں بتایا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ امریکہ امن مذاکرات کے لیے مصروف عمل رہے گا۔

واشنگٹن میں امریکہ وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا: ’آگے بڑھنے کا راستہ ہمیشہ موجود ہوتا ہے، لیکن رہنماؤں کو آگے بڑھنے کے لیےضروری سمجھوتے کرنے ہوتے ہیں۔ ہم آگے بڑھنے کا راستہ دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ ضروری سمجھوتے کرنے کے لیے تیار ہی نہ ہوں تو اس میں عرصہ لگ جاتا ہے۔ ہمیں امن کے امکانات کی امید کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔‘

’ہمیں معلوم ہے کہ اس کا ایک ہی راستہ ہے۔ لیکن اب ظاہر ہے یہ معاملات ایک بہت ہی مشکل موڑ پر ہیں اور رہنماؤں کو خود فیصلے کرنے ہیں اور یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ کیا فیصلے کرتے ہیں۔‘

اسی بارے میں