یوکرین اور روس: مغربی ممالک کیا کرسکتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی کامیاب نہیں ہوئی تو اس کے اثرات دور رس اور دیرپا اور دنیا بھر پر ہوں گے

یوکرین کے خطے کرائمیا کے روس سے الحاق کے بعد اب روس نواز شدت پسندوں نے مشرقی یوکرین میں کئی شہروں پر قبضہ کیا ہوا ہے۔

اس صورتحال میں مغربی ممالک نے روس پر پہلے سے عائد پابندیوں میں اضافے کی دھمکی دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کے علاوہ وہ کیا کر سکتے ہیں؟

سفارت کاری پر اکتفا

اس معاملے کے حل کا سب سے واضح راستہ تو سفارت کاری کے ذریعے دباؤ ڈالنے کا ہے۔ اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل موجود تو ہے لیکن اس کی مدد نہیں لی جا سکتی۔

سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہونے کی وجہ سے روس کو ویٹو کا حق حاصل ہے اور وہ کسی بھی کارروائی کی قرارداد کے خلاف یہ طاقت استعمال کرے گا۔

اقوامِ متحدہ کے دوسرے ادارے مثلاً جنرل اسمبلی اس سلسلے میں قرارداد منظور کر سکتی ہیں لیکن ان پر عملدرآمد لازمی نہ ہونے کی وجہ سے روس انھیں باآسانی نظرانداز کر سکتا ہے۔

روس اور مغربی ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتی جا رہی ہے۔

چاہے وہ جی ایٹ اجلاس کی منسوخی ہو یا روس کی رکنیت کی معطلی، جہاں تک ممکن ہو سکا ہے مغرب نے روس کو تنہا کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن روس کو آسانی سے سلامتی کونسل یا ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن سے نہیں نکالا جا سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption روس اور مغربی ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتی جا رہی ہے

سزاؤں کے استعمال پر ہمیشہ سے سوال اٹھتے رہے ہیں کہ آیا وہ مددگار ثابت ہونے کی بجائے رکاوٹ ثابت ہوتی ہیں؟ مغربی ممالک عموماً تنہا کرنے سے زیادہ بات چیت کرنے کی ترویج کرتے ہیں اور سردمہری کے مظاہرے کو آخری اقدام تصور کرتے رہے ہیں۔

لیکن بات چیت روسی پیش قدمیوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ روس کے کرائمیا کو اپنا حصہ بنانے میں پھرتی دکھائی اور اب یوکرین کی عبوری حکومت کو خطرہ ہے کہ روس یوکرین کے مزید علاقے کو ہڑپنا چاہتا ہے۔ مغرب کی جانب سے کرائمیا کے معاملے پر بروقت اقدامات نہ کیے جانے سے سفارتی سطح پر روس کی حیثیت مضبوط ہوئی ہے۔

عسکری قوت کا استعمال

بلقان کی فضاؤں میں طیاروں سے نگرانی کا عمل تو پہلے ہی جاری ہے اور امریکی جنگی طیارے پولینڈ میں جنگی مشقوں میں مصروف ہیں۔ اس کے علاوہ چھاتہ بردار فوجی دستے پولینڈ، لتھوینیا، لیٹویا اور ایسٹونیا بھجوا دیے گئے ہیں۔

یہ چھوٹے پیمانے پر ہونے والی جنگی مشقوں کا سا ماحول ہے جو بظاہر اس سال کے اختتام تک جاری رہیں گی۔ یہ بظاہر اس خطے میں نیٹو کے رکن ممالک کی تسلی کے لیے کافی ہے لیکن اسے روس کو باز رکھنے کے لیے کافی نہیں کہا جا سکتا۔

نیٹو نے وسطی یورپ اور بلقان کی ریاستوں میں اپنی موجودگی میں اضافہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نیٹو نے وسطی یورپ اور بلقان کی ریاستوں میں اپنی موجودگی میں اضافہ کیا ہے

ابھی تو یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے کہ یوکرین کا موجودہ بحران نیٹو اور روس کے مابین ایک جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ نیٹو یوکرین میں اپنے فوجی تعینات نہیں کرے گی اور اگر روس یوکرین میں اپنی فوج بھیجتا ہے تو ردعمل عسکری نہیں بلکہ اقتصادی پابندیوں کی شکل میں ہوگا۔

تاہم روس کی جانب سے بلقان کی ریاستوں کو غیر مستحکم کرنے یا انھیں دھمکی دینے کی صورت میں حالات عسکری تنازع کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

اقتصادی پابندیوں میں اضافہ

کڑی اقتصادی پابندیوں پر امریکہ اور یورپی یونین میں اختلاف ممکن ہے۔ یورپی کمپنیوں کے روس سے تعلقات امریکہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں اور اس وقت یوروزون کی اقتصادی حالت بھی زیادہ اچھی نہیں۔

یورپی یونین کے برعکس امریکہ روس سے زیادہ کاروبار نہیں کرتا اور وہ اپنے طور پر کڑی پابندیاں لگا سکتا ہے۔ امریکہ پہلے روسیا بینک پر پابندی لگانے کے علاوہ روسی سیاستدانوں، کاروباری حضرات اور عسکری شخصیات کے اثاثے منجمد کرنے کے علاوہ ان پر سفری پابندیاں لگا چکا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ پہلا قدم ان پابندیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے جن کا ہدف سرکاری ادارے ہو سکتے ہیں۔

کچھ نہ کریں

مغربی ممالک یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ یہ تنبیہی بیانات، نرم اقتصادی پابندیاں اور عسکری مشقیں روس کو باز رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ اس لیے دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی اپنائی جائے تو روس جلد ہی صحیح راستے پر آ جائے گا۔

تاہم اگر یہ جوا کامیاب نہیں ہوتا تو اس کے اثرات دور رس اور دیرپا اور دنیا بھر پر ہوں گے۔ روس کی دیکھا دیکھی دیگر ممالک بھی اس روش کو اپنا سکتے ہیں۔ کرائمیا جیسی بغاوتیں جگہ جگہ ہو سکتی ہیں جس سے عالمی استحکام اور اقتصادی ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں