شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر ممکنہ بات چیت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی صدر کا ایشیا کے چار ممالک کا یہ دورہ 29 اپریل کو ختم ہو گا

صدر براک اوباما ایشیا کے دور ے کے دوران جنوبی کوریا پہنچے ہیں جہاں توقع ہے کہ وہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر بات چیت کریں گے۔

صدر اوباما کا دورہ ایک ایسا وقت میں ہو رہا ہے جب یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شمالی کوریا ممکنہ طور پر چوتھے جوہری تجربے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

صدر اوباما جاپان سے سیول پہنچے ہیں جہاں وہ ملک کی صدر پاک گن ہے سے بات چیت کریں گے۔ توقع ہے کہ ان کی بات چیت شمالی کوریا پر مرکوز ہوگی جہاں سے جوہری تجربے کے ایک مقام پر سرگرمیاں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

توقع ہے کہ صدر اوباما گذشتہ ہفتے جنوبی کوریا کے غرقاب بحری جہاز کے واقعے پر اظہارِ افسوس بھی کریں گے۔ وہ پاک گن ہے سے بات چیت کے بعد سنیچر کو ملائیشیا جائیں گے۔

اس سے پہلے جاپان میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا تھا کہ پورے ایشیا پیسیفک خطے میں شمالی کوریا کا مسئلہ سب سے زیادہ ’عدم استحکام پھیلانے والا خطرناک مسئلہ ہے۔‘

انھوں نے پیانگ یانگ پر اثر رسوخ استعمال کرنے کے لیے چین کی کردار کو انتہائی اہم قرار دیا تھا۔

اس ہفتے کے اوائل میں جنوبی کوریا کی فوج نے کہا تھا کہ اس نے شمالی کوریا کے جوہری تجربے کے مقام پر بہت سرگرمیاں نوٹ کی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ یا تو وہ جوہری تجربہ کر رہا ہے یا تجربہ کرنے کا بہانہ بنا رہا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما ایشیا کے چار ملکی دورے پر بدھ کو جاپان پہنچے تھے جس کے بعد وہ جنوبی کوریا آئے، جہاں سے وہ ملائیشیا اور فلپائن کا بھی دورہ کریں گے۔

اوباما بیجنگ نہیں جائیں گے، تاہم علاقائی رہنماؤں سے ہونے والی ملاقاتوں میں امریکہ چین تعلقات پیش پیش رہیں گے۔

امریکی صدر کا ایشیا کے چار ممالک کا یہ دورہ 29 اپریل کو ختم ہو گا۔

براک اوباما نے سات ماہ قبل اس خطے کا دورہ امریکی حکومت کے ’شٹ ڈاؤن‘ کی وجہ سے منسوخ کر دیا تھا۔

اسی بارے میں