دس چیزیں جن سے ہم گذشتہ ہفتے لاعلم تھے

تصویر کے کاپی رائٹ AP

1۔ سرد جنگ کے دوران جمہوریہ چیک اور پرانے مغربی جرمنی کے درمیان جغرافیائی اور نظریاتی تقسیم ختم ہونے کے بعد بھی جمہوریہ چیک کے ہرن سرحد پار نہیں جاتے۔

مزید معلومات کے لیے کلک کریں

2۔ برطانیہ کے باتھ شہر کے لوگ سب سے زیادہ قرض لیتے ہیں۔

مزید معلومات کے لیے کلک کریں

3۔گملوں میں ٹوٹے ہوئے مٹی کے برتن کے ٹکڑے ڈالنے سے بھی نکاسی میں کوئی مدد نہیں ملتی۔

مزید معلومات کے لیے کلک کریں

4۔ ولیم ہیگ امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر کے ہیرو ہیں۔

مزید معلومات کے لیے پڑھیں (نیو سٹیٹس مین)

5۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان جب کسی جگہ کا دورہ کرنے جاتے ہیں تو ان کے ساتھ ساتھ ان کی ہدایات کے نوٹس لینے والے کئی افسران اور فوجی سربراہ ہوتے ہیں جنہیں وہ موقع پر ہی ہدایات دیتے ہیں۔

مزید معلومات کے لیے کلک کریں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انٹارکٹیکا بھی کبھی موجودہ دور کے کیلیفورنیا کی طرح گرم تھا

6۔ خواتین کا جنسی رویے کا تعلق ان کے کولہے کے سائز سے ہو سکتا ہے۔

مزید معلومات کے لیے پڑھیں (سائنس ڈیلی)

7۔ موسم سرما اور موسم بہار کے درمیان بحرِ منجمد جنوبی میں پراسرار آوازیں سنائی دیتی ہیں وہ دراصل پانی کے اندر انٹارکٹک منک وہیل کے بولنے سے پیدا ہوتی ہیں۔

مزید معلومات کے لیے کلک کریں

8۔ لائبریری جانے سے ملنے والا اطمینان تنخواہ میں 1،359 پاؤنڈ کے اضافے جتنا ہوتا ہے وہیں جمنازیم کی رکنیت پر تنخواہ میں 1،318 پاؤنڈ کے اضافے ملنے والی خوشی جتنی خوشی ملتی ہے۔

مزید معلومات کے لیے پڑھیں (دی ٹائمز)

9۔ انٹارکٹیکا بھی کبھی موجودہ دور کے کیلیفورنیا کی طرح گرم تھا۔

مزید معلومات کے لیے پڑھیں (سمتھسونين)

10۔ پتھر کے زمانے کے شکاری زراعت سے دور ہی رہتے تھے۔

مزید معلومات کے لیے پڑھیں (نیو سائنٹسٹ)

اسی بارے میں