اوباما ملائیشیا کے تاریخ ساز دورے پر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 1966 سے لے کر اب تک کسی بھی امریکی صدر کا مسلمان اکثریت ملائیشیا کا یہ پہلا دورا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما ہفتے کی شام کو ملائیشیا کے سرکاری دورے پر ملائیشیا کی سوبانگ ائیر بیس پہنچے۔ 1966 سے لے کر اب تک کسی بھی امریکی صدر کا ملائیشیا کا یہ پہلا دورا ہے۔

کئی دہائیوں سے کشیدہ تعلقات کے بعد یہ ملاقات باہمی تعلقات میں بہتری کی طرف ایک قدم تصور کیا جا رہا ہے۔

صدر اوباما ملائیشیا کے ساتھ قریبی اقتصادی تعلقات کے لیے اپنے ہم منصب سے بات چیت کریں گے تاکہ خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو کم کیا جا سکے۔

امریکہ نے پہلے ہی کوالالمپور کو فوجی مدد مہیا کی ہے خصوصاً ملائیشیا کے گمشدہ طیارے کی تلاش میں۔

صدر اوباما چار ممالک کے دورے کے سلسلے میں پہلے ہی جاپان اور جنوبی کوریا کا دورا کر چکے ہیں۔

کوالالمپور میں بی بی سی کی نمائندہ جینیفر پاک کا کہنا تھا کہ صدر اوباما کے دورے سے قبل ملائیشیا کی حکومت کے زیر کنٹرول اخباروں میں پہلے صفحے پر امریکہ کے جھنڈے کی تصویر اور ’خوش آمدید صدر اوباما‘ کے الفاظ لکھے تھے۔

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے ملائیشیا کا دورا بہت تاخیر سے کیا اگرچہ ان کا بچپن ملائیشیا میں گزرا تھا۔

ماضی میں امریکی صدر ملاًئیشیا کے رہنما مہاتیر محمد کے مغرب خلاف بیانات کی وجہ سے ملائیشیا کے دورے سے گریرز کرتے رہے ہیں ۔ مگر موجودہ وزیراعظم نجیب رزاق چاہتے ہیں کہ واشنگٹن ملائیشیا کو ایک عالمی طاقت کی حیثیت سے پہچانے۔

دوسری جانب صدر اوباما چاہتے ہیں کہ کوالالمپور دس ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے یعنی ’ٹرانس پیسفک‘ معاہدے پر دستخط کرے۔

ملکی سیکیورٹی کے امور پر صدر اوباما کے نائب مشیر بین روڈز کا کہنا ہے کہ ملائیشیا اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں بہت بہتری آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملائیشیا صدر اوباما کی حکومت کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔

دوسری جانب ملائیشیا کے کچھ مسلمان حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی ساتھ تجارت کے معاہدوں سے ان کا علاقائی اثر و رسوخ متاثر ہو سکتا ہیں۔

صدر اوباما جنوبی کوریا کے دورے کے بعد ملائیشیا پہنچے اور 29 اپریل کو ان کا ایشیا کا یہ دورہ فلپائن میں اختتام پذیر ہو گا۔

اسی بارے میں