’یہودیوں کا قتلِ عام سب سے سنگین جرم‘: محمود عباس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمود عباس نے متاثرہ خاندانوں اور نازیوں کے ہاتھوں مارے جانے والے دیگر بےگناہ افراد کے ساتھ ہمدردی ظاہر کی

فلسطین کے صدر محمود عباس نے یہودیوں کے قتلِ عام کو جدید تاریخ کا ’سب سے سنگین جرم‘ قرار دیا ہے۔

محمود عباس یہ بیان یہودیوں کی یاد میں منائے جانے والے دن کے موقع پر سامنے آیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کے وزیرِاعظم بنيامن نیتن یاہو نے کہا ’محمود عباس یہودیوں کے قتلِ عام کو خوفناک نہیں کہہ سکتے ہیں کیونکہ ایسا کرنے والوں کو وہ گلے لگاتے ہیں۔‘

اپنے بیان میں محمود عباس نے متاثرہ خاندانوں اور نازیوں کے ہاتھوں مارے جانے والے دیگر بےگناہ افراد کے ساتھ ہمدردی ظاہر کی۔

انھوں نے کہا ’یہودیوں کا قتلِ عام نسلی امتیاز اور نسل پرستی کے تصور پر مبنی تھا جسے فلسطین مسترد کرتا ہے۔‘

يروشلم سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق محمود عباس کا یہ بیان یہودیوں کے قتلِ عام پر اب تک کا سب سے مضبوط بیان ہے جو اسرائیل کے لوگوں کی بداعتمادی دور کرنے کی ایک کوشش دکھائی دیتی ہے۔

حماس کے حکام یہودیوں کے قتلِ عام کی تنقید سے پرہیز کرتے رہے ہیں اور سنہ 2009 انھوں نے غزہ میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے چلائے جانے والے سکولوں میں اسے پڑھانے کی مخالفت کی تھی۔

دوسری عالمی جنگ کے دوران نازیوں نے تقریباً 60 لاکھ یہودیوں کو قتل کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے حال ہی میں محمود عباس کی تنظیم ’فتح‘ اور اسلامی حریف تنظیم ’حماس‘ کے درمیان ہونے والے معاہدے کی مخالفت کی ہے۔

اسرائیل کی سیکورٹی کابینہ نے جمعرات کو ’فتح‘ اور ’حماس‘ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے پیش نظر فلسطینیوں سے امن مذاکرات کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

امریکہ اور یورپی یونین کی طرح اسرائیل بھی حماس کو ایک شدت پسند تنظیم مانتا ہے۔

اسرائیل کے وزیرِاعظم نیتن یاہو نے اتوار کو سی این این سے کہا ’اسرائیل، حماس کی حمایت یافتہ حکومت کے ساتھ بات چیت نہیں کرے گا۔‘

دوسری جانب فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ وہ اب بھی امن مذاکرات کے حق میں ہیں۔

اسی بارے میں