یوکرین بحران: سات افراد اور 17 روسی کمپنیوں پر امریکی پابندیاں عائد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یوکرین کے شمال مشرقی شہر دونیتسک میں اتوار کو بھی روس حامیوں نے مظاہرہ کیا

امریکہ نے یوکرین میں جاری بحران کے پیش نظر روس کے سات افراد اور17 کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردی ہیں جن کا تعلق روسی صدر کے ’قریبی ساتھیوں‘ میں سے ہے۔

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ روس پر مزید پابندیاں ’ماسکو کی جانب سے یوکرین میں غیر قانونی مداخلت‘ کے باعث عائد کی گئی ہیں۔

جن پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں سے ایک ایگور سیچن ہیں جو آئل کمپنی روزنیفٹ کے سربراہ ہیں اور دوسرے ہیں سرگئی کیموزوف جو ٹیکنانالوجی کی کمپنی روزٹیک کے سربراہ ہیں۔

اس سے قبل یوکرین میں جاری بحران کے پیش نظر یورپی یونین کے سفارت کاروں کی ملاقات ہونی ہے جس میں وہ روس کے خلاف مزید پابندیوں پر غور کریں گے۔

اس ملاقات کے دوران جاری پابندیوں میں توسیع کا فیصلہ کیا جائے گا اور مزید روسی اہلکاروں کو ان کی زد میں لایا جائے گا۔

واضح رہے کہ امریکہ اور ترقی یافتہ ممالک کی تنظیم جی 7 بھی روس کے خلاف مزید اقدامات کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روس یوکرین کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔

یورپی یونین کے 28 رکن ممالک کے سفارتکار کو روس اور مخصوص روسی افراد کے خلاف پابندیوں میں توسیع پر غور و خوض کے لیے ملاقات کر رہے ہیں۔

برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا کہ ’بحث ابھی بھی جاری ہے تاہم پابندیوں میں اضافے کا امکان ہے۔‘ ابھی جو پابندیاں عائد ہیں ان میں متعدد لوگوں کے سفر پر پابندیاں اور اثاثے منجمد کرنا شامل ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم ان میں جتنے نام شامل کرتے جائيں گے روسی کی معیشت کو اتنا ہی نقصان پہنچے گا۔‘

دریں اثنا اتوار کو روس حامی فوجیوں نے آٹھ میں سے ایک غیر ملکی مبصر کو رہا کر دیا ہے جنھیں گذشتہ ہفتے مشرقی یوکرین میں یرغمال بنا لیا گيا تھا۔

ان اغوا شدہ مبصرین کو میڈیا کے سامنے بھی پیش کیا گیا جسے جرمنی نے ’بغاوت‘ سے تعبیر کیا۔ واضح رہے کہ ان فوجی مبصرین میں چار افراد جرمنی کے ہیں۔

Image caption مبصرین کا تعلق جرمنی، پولینڈ، سویڈن، ڈنمارک اور چیک جمہوریہ سے ہے اور ان کی رہائی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں

یہ مبصرین یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم (او ایس سی ای) کے تحت سفر کر رہے تھے کہ انھیں اغوا کر لیا گیا۔

ان مبصرین کا تعلق جرمنی، پولینڈ، سویڈن، ڈنمارک اور چیک جمہوریہ سے ہے اور ان کی رہائی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

دوسری جانب یوکرین کے شمال مشرقی شہر خرکیف میں متحدہ یوکرین کے فٹبال شائقین اور روس حامیوں کے درمیاں جھڑپ میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

دونیتسک میں علیحدگی پسندوں نے خطے کے ٹی وی اور ریڈیو ہیڈکوارٹرز پر قبضہ کر لیا ہے اور یہ نشر کیا کہ ایک روسی چینل کو از سر نو جاری کیا جانا چاہیے۔

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے علاقے میں جاری بحران کے حل کے لیے جنیوا میں جو معاہدہ ہوا تھا اس سمت میں ’روس نے ایک انگلی بھی نہیں اٹھائی ہے۔‘

روسی صدر پوتن کے حریف اور روسی تیل کے سابق بڑے تاجر میکائل خودورکووسکی اتوار کو دونیتسک گئے لیکن شہر پر قابض باغیوں نے انھیں شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔

دریں اثنا یوکرین کے بہت سے مشرقی شہروں میں مسلح افراد نے سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔

مغربی ممالک نے ماسکو پر مشرقی یوکرین میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام لگایا ہے جبکہ روس اس کی پرزور تردید کرتا ہے۔

اسی بارے میں