تیل کی دولت اور بدلتا ہوا قطر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قطری عوام کو کثیر تعداد میں ملنے والی ان سہولتوں کے جہاں فوائد ہیں، وہاں نقصانات بھی ہیں

تیل اور گیس سے ہونے والی آمدن نے قطر کو دنیا کا امیر ترین ملک بنا دیا ہے اور اب یہ 2022 میں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے دو سو ارب ڈالر خرچ کرنے کو تیار ہے۔

لیکن کیا یہ بھاری رقم قطر کے عوام کی زندگی میں خوشحالی اور مسرت لا سکتی ہے؟

قطر میں فی الحال گرمی قابلِ برداشت ہے ، یہاں شام ہوتے ہی لوگ اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ ملک کے دارالحکومت دوحہ میں سمندر کے کنارے واقع ’کورنیش‘ نامی جگہ پر چہل قدمی کرتے ہیں، لیکن کچھ عرصے میں گرمی کے موسم کی آمد کے بعد ایسا کرنا ممکن نہ ہوگاـ

سمندر کے اس کنارے پر جہاں پہلے صرف ریت کے پہاڑ تھے، اب فولاد اور شیشے سے بنی عمارتوں نے ان کی جگہ لے لی ہے۔

تقریباً ایک صدی پہلے یہی قطر غربت کی آغوش میں مدہوش سو رہا تھا، تاہم آج دنیا کے اس امیر ترین ملک میں فی کس آمدنی سالانہ ایک لاکھ ڈالر ہے لیکن تیل اور گیس کی وجہ سے ہونے والی اس برق رفتار ترقی نے قطری معاشرے کو بھی بدل دیا ہے۔

ملک کے دارلحکومت دوحہ میں ہر وقت کہیں نہ کہیں نئی عمارتوں پہ جاری کام نے ہر وقت ٹریفک کو الجھا کر رکھا ہوتا ہے۔ انتہائی تیزی سے جاری ان تعمیراتی کاموں کے وجہ سے مقامی طور پر رہائشی لوگوں پر ذہنی دباؤ نظر آتا ہے۔

قطر یونیورسٹی کے شعبِہ معاشرتی علوم کے پروفیسر ڈاکٹر قلطام الغانم کہتے ہیں کہ ’ہم اب شہری ہو گئے ہیں، ہماری معاشرتی اور معاشی زندگیاں بدل گئی ہیں۔ خاندان ایک دوسرے سے دور ہونا شروع ہوگئے ہیں۔خریداری اور چیزوں کی طرف توجہ اب زیادہ بڑھ گئی ہے۔‘

مقامی میڈیا کے مطابق 40 فیصد قطری شادیوں کا اختتام اب طلاق پہ ہوتا ہے اور ملک کی نصف سے زائد قطری آبادی جن میں بچے اور بڑے شامل ہیں، شدید موٹاپے کا شکار ہے۔ مقامی لوگوں کے لیے مفت تعلیم، بجلی، گیس، پانی اور روزگار کی ضمانت بھی ہے، لیکن کثیر تعداد میں ملنے والی ان سہولتوں کے جہاں فوائد ہیں، وہاں نقصانات بھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تیل اور گیس کی وجہ سے ہونے والی اس برق رفتار ترقی نے قطری معاشرے کو بھی بدل دیا ہے

دوحہ میں واقع امریکن یونیورسٹی کے ایک ماہرِ تعلیم کہتے ہیں کہ گریجویٹ ڈگری پانے والے طالبِ علموں کو 20 قسم کے اداروں سے ملازمت کی پیشکش ہوتی ہیں، ایسے میں طالبِ علموں کو صحیح فیصلہ کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہوتا ہے۔

قطر میں ہر ایک مقامی شہری کے مقابلے میں سات غیر ملکی پائے جاتے ہیں۔ یہاں قطری شہریوں کو اس بات کی شکایت ہے کہ اْنھیں وہ ملازمتیں دی جاتی ہیں جن میں تھوڑا یا نہ ہونے کے برابر کام ہوتا ہے جبکہ غیر ملکیوں کو زیادہ تسلی بخش ملازمتیں حاصل ہوتی ہیں۔

یہاں لوگوں کے درمیان رشتے اب بکھر رہے ہیں، تقریبًا تمام قطری جوڑوں نے اب بچوں کی دیکھ بھال کے لیے انڈونیشی، فلپائنی اور نیپالی آیائیں رکھی ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے بچوں اور بڑوں کے درمیان سوچ میں واضح فرق پیدا ہو رہا ہے۔

ایک 60 سالہ مقامی خاتون اْمِ خلافہ کہتی ہیں کہ پہلے زندگی سادہ اور خوبصورت تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’کسی زمانے میں ہم وسائل خود فراہم کرتے تھے، اب رشتوں میں دوریاں بڑھ گئی ہیں۔‘

شہر سے دور دوحہ کے صحرا کے قریب اْم الفائی نامی ایک کسان نے مجھے گرم گرم جھاگ سے بھرا ہوا اونٹنی کا دودھ اور کھجوریں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے زمانے میں لوگ کام کریں یا نہ کریں، وہ خوشحال ہوتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

اْم الفائی کہتے ہیں کہ حکومت لوگوں کی مدد کر رہی ہے لیکن چیزیں بہت تیزی سے بدل رہی ہیں۔

قطری معاشرہ طبقاتی تفریق کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے، یہاں مقامی لوگوں کو یہی ڈر ہے کہ اگر تفریق کے اس عمل کو ختم کر دیا گیا تو معاشرے میں طبقاتی توازن پیدا ہو جائے گا جو قطری تہذیب کے لیے خطرہ ہوگا۔

لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ طبقاتی توازن پیدا ہو رہا ہے اور تہذیب تبدیلی کے دہانے پر ہے۔

سعودی عرب کے ساتھ بدلتے تعلقات اور آٹھ سال بعد ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ کے بارے میں مقامی لوگوں میں تشویش اور تحفظات ابھی سے بڑھ رہے ہیں اور خیال کیا جا رہا ہے کہ حکومت دوبارہ اصلاحاتی عمل کرنے پہ مجبور ہو جائے گی۔

اسی بارے میں