عراق: امریکہ کی واپسی کے بعد پہلے انتخابات میں ووٹنگ جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے ووٹ ڈالنے کے بعد اپنی جیت کا دعویٰ کیا

عراق سے امریکی افواج کی واپسی کے بعد پہلے پارلیمانی انتخابات میں عراقی اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔

ان انتخابات کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے شروع ہوئی اور شام چھ بجے تک جاری رہے گی۔

وزیر اعظم نوری المالکی ملک کے مغربی علاقوں میں بڑھتی ہوئی بغاوت کے درمیان تیسری بار حکومت سازی کے لیے منتخب ہونے کی امید کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں عراق میں زبردست شورش جاری ہے اور سنہ 2008 کے بعد سے یہ اپنے عروج پر ہے۔

ملک میں تقریباً دو کروڑ 20 لاکھ افراد ووٹ دینے کے اہل ہیں جبکہ ان انتخابات کے لیے ملک بھر میں 50 ہزار پولنگ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

بغداد میں موجود بی بی سی کے کیون کونولی کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ ہیلی کاپٹر سے بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔

حکومت نے عارضی طور پر ایئرپورٹ بند کر دیا ہے جبکہ شہر سے آنے جانے والی اہم سڑکوں کو بھی بند کر دیا گیا ہے تاکہ ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کے لیے تحفظ کی یقین دہانی کرائی جا سکے۔

ایک ووٹر اظہر محمد نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا: ’میں نے صبح سویرے ہی ووٹ ڈالنے میں خیریت سمجھی۔ انھوں نے کہا کہ موصل شہر میں ہونے والے تشدد میں ان کا بھائی ہلاک ہو گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے نجف میں اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا

ہرچند کہ ان انتخابات میں یہ پیش گوئی کر پانا مشکل ہے کہ کون جیتے گا، تاہم مالکی ابھی تک اہم شخصیت مانے جاتے ہیں جو نتائج آنے کے بعد مختلف پارٹیوں کو متحد کر کے حکومت سازی کر سکتے ہیں۔

بغداد کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون میں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد نوری مالکی نے کہا: ’ہماری فتح یقینی ہے، لیکن ہم اپنی جیت کے مارجن کے بارے میں جاننے کے منتظر ہیں۔

شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے نجف میں صبح سویرے اپنا ووٹ ڈالا۔

انتخابی مہم بہت ہی پرتشدد رہی اور پیر کو جب فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور بیرون ممالک رہنے والے شہریوں نے ووٹ ڈالے، اس دن 50 افراد مارے گئے تھے۔

خناقن شہر میں کردوں کے انتخابی جلسے میں ہونے والے بم دھماکے میں 30 افراد ہلاک جبکہ 50 زخمی ہو گئے تھے۔

اس سے قبل جمعے کو دارالحکومت بغداد میں شیعہ سیاسی جماعت کی انتخابی ریلی میں ہونے والے دھماکوں میں کم از کم 31 لوگ ہلاک ہو گئے۔

بی بی سی کے رافض جبوری کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند روز کے دوران انھوں نے ملک میں کئی مقامات کا دورہ کیا جہاں لوگوں کا کہنا ہے کہ تشدد انھیں ووٹ دینے سے باز نہیں رکھ سکتا اور بطور خاص یہ باتیں شیعہ اکثریتی علاقے میں سننے میں آئی ہیں۔

ان انتخابات میں 328 پارلیمانی سیٹوں کے لیے نو ہزار سے زیادہ امیدوار میدان میں ہیں۔

اسی بارے میں