نائجیریا: شدت پسندوں کے ہاتھوں اغوا طالبات کی رہائی کے لیے مظاہرہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption منگل کو بھی برونو میں درجنوں خواتین نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر مظاہرہ کیا اور اپنی بیٹیوں کی رہائی کا مطالبہ تھا

نائجیریا کے دارالحکومت ابوجا میں مظاہرین قومی اسمبلی کی جانب احتجاجی مارچ کر رہے ہیں تاکہ دو ہفتے قبل شدت پسندوں کے ہاتھوں اغوا کی جانی والی کم سے کم 190 طالبات کی رہائی کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

مظاہرین حکومت کو اس معاملے میں ناکافی کوششوں کے لیے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت مزید اقدامات کرے۔

ریاست برونو کے چیبوک شہر میں ایک سکول پر حملے کے بعد طالبات کے اغوا کا ذمہ دار اسلامی شدت پسند تنظیم بوکو حرام کو قرار دیا جا رہا ہے۔

بوکو حرام نے تاحال اس الزام کا کوئی جواب نہیں دیا۔

مقامی زبان میں اس تنظیم کے نام کا مطلب ہی ’مغربی تعلیم حرام‘ ہے۔ اس تنظیم پر الزام ہے کہ صرف رواں برس میں اس کی جانب سے کیے گئے حملوں میں اب تک 1500 لوگ مارے جا چکے ہیں۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’ووومن فار پیس اینڈ جسٹس‘ کی جانب سے منقعدہ احتجاج میں 10 لاکھ خواتین کی شرکت متوقع ہے اور اسے یہی نام بھی دیا گیا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت طالبات کی رہائی کے لیے زیادہ سے زیادہ وسائل استعمال کریں۔

اغوا ہونے والی طالبات کے والدین نے حکومت پر تنقید کی ہے جب کہ حکومت کی جانب سے بازیابی کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور طالبات کی صحیح تعداد اب تک متنازع ہے۔

یاینک مارک جن کی ایک بیٹی اور دو بھتیجیاں بھی اغوا ہونے والی طالبات میں شامل ہیں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ اللہ کر مار ہو ان سب پر جو ہماری بچیوں کو آزاد کرانے میں ناکام رہے۔‘

منگل کو ایک مقامی اہل کار نے کہا تھا کہ شاید بعض لڑکیوں کو ہمسایہ ریاست میں لے جایا گیا ہے تاہم 230 اب بھی قید میں ہیں۔ ان کی بتائی گئی تعداد پہلے لگائے گئے اندازے زیادہ ہے اور ان کے بقول یہی صحیح تعداد ہے۔

منگل کو بھی برونو میں درجنوں خواتین نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر مظاہرہ کیا اور اپنی بیٹیوں کی رہائی کا مطالبہ تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مظاہرے کی قیادت کرنے والی ناؤمی متاح نے کہا ’ہمیں شکوہ یہ ہے کہ تیسرا ہفتے ہو گیا کسی نے ہم سے اس بارے میں کوئی بات تک نہیں کی۔‘

حکومت کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز طالبات کی تلاش کر رہی ہیں تاہم ناقدین نے ان کوششوں کو ناکافی قرار دیا ہے۔

طالبات سکول کے سالانہ امتحان میں شرکت کرنے والی تھیں اور تمام کی عمریں 16 سے 18 سال کے درمیان ہیں۔

مئی سنہ 2013 میں جاری کی گئی ایک ویڈیو میں بوکو حرام کے رہنما ابوبکر شیکاؤ نے دھمکی دی تھی کہ وہ خواتین اور بچیوں کو پکڑ کر غلام بنائیں گے۔

اسی بارے میں