یوکرین: ’جاسوس‘ روسی فوجی اتاشی گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یوکرینی وزارت خارجہ نے روسی فوجی اتاشی کو ’ناپسندیدہ شخصیت‘ قرار دے کر حراست میں لے لیا

یوکرین میں ایک روسی فوجی اتاشی کو جاسوسی کے شبے میں گرفتار کر کے ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ یوکرین کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ فوجی اتاشی سفارتی حیثیت کے مطابق کارروائیاں نہیں کر رہا تھے، بلکہ مشکوک سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

یوکرینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ روس کے اتاشی کو بدھ کے روز ’ناپسندیدہ شخصیت‘ قرار دے کر حراست میں لے لیا گیا تھا۔

ترجمان نے مزید تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا۔ کریملن نے اس معاملے پر ابھی تک کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا۔

یاد رہے کہ یوکرین اور ہمسایہ ملک روس کے درمیان شدید سیاسی اور عسکری کشیدگی جاری ہے۔ دونیتسک اور لوہانسک کے علاقوں میں علیحدگی پسندوں نے متعدد سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور کئی عالمی مبصرین بھی ان کے قبضے میں ہیں۔

ادھر کیئف اور مغربی ممالک نے روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ یوکرین میں علیحدگی پسند بدامنی پھیلا رہا ہے، لیکن ماسکو نے اس بات کی تردید کی ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے یوکرین کی معیشت کی بحالی کے لیے 17.1 ارب ڈالر کے قرضے کا اعلان کیا ہے۔ یہ قرضہ سخت معاشی اصلاحات سے مشروط ہے جن میں ٹیکسوں اور تونائی کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہیں۔

بدھ کو یوکرین کے عبوری صدر اولیکسیندر تورچینوف نے کہا تھا کہ فی الوقت سکیورٹی ادارے حالات پر قابو پانے میں ناکام ہیں اور اس شورش کو دیگر حصوں میں پھیلنے سے روکنا ان کی اولین ترجیح ہے۔

یوکرینی صدر نے یہ بھی کہا کہ روسی افواج کے سرحد پار کرنے کے خطرے کے پیشِ نظر یوکرین اس وقت ’جنگ کی مکمل تیاری کی حالت‘ میں ہے۔

یوکرین کی سرحد کے قریب 40 ہزار کے قریب روسی فوجی تعینات ہیں۔ ماسکو نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرقی یوکرین میں، جہاں کی آبادی کی اکثریت روسی زبان بولتی ہے، روسی مفادات کو نقصان پہنچا تو روس فوج کارروائی شروع کر دےگی۔

امریکہ اور یورپی یونین نے روس پر تنقید کی ہے کہ اس نے گذشتہ ماہ جنیوا میں کیے جانے والے معاہدے کے مطابق اپنی غیر قانونی ملیشیا کو غیر مسلح نہیں کیا۔

امریکہ اور یورپی یونین نے روس کے خلاف اقتصادی کارروائی تب شروع کی جب روس نے گذشتہ ماہ یوکرین کے خطے کرائمیا کو اپنا حصہ بنا لیا تھا۔ تب سے امریکہ اور یورپی یونین نے روس کے خلاف اقتصادی پابندیوں میں اضافہ کیا ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق ان پابندیوں کی بنا پر روس کو اس سال ایک کھرب ڈالر کا نقصان ہو گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یوکرین میں بحران کی وجہ سے روس کو ’کساد بازاری کا سامنا‘ کرنا پڑ رہا ہے۔

آئی ایم ایف نے یوکرین کے بارے میں اپنے فیصلے کا اعلان بدھ کے روز کیا۔ آئی ایم ایف نے یوکرین کی معیشت کی بحالی کے لیے 17.1 ارب ڈالر کے قرضے کا اعلان کیا ہے۔بیل آؤٹ بھی حال ہی میں کانگریس کی طرف سے منظور کیا گیا تھا جس کے تحت ایک ارب ڈالر کا قرضہ دستیاب ہو گا۔

اس کے علاوہ بدھ کے روز لندن میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں یہ بھی طے ہوا تھا کہ یوکرین کے معزول صدر یانوکووچ اور ان کے ساتھی کی طرف سے چوری کیے جانے والے اثاثوں کی وصولیابی کے لیے مدد کی جائے گی۔

اسی بارے میں