یوکرین: کئی رو س نواز باغی ہلاک یا گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یاد رہے کہ یوکرین کے عبوری صدر اولیکسیندر تورچینوف نے ملک کے مشرقی علاقوں میں جاری کشیدگی کے حل کے لیے فوج کے استعمال کا اعلان کیا تھا

یوکرین کے قائم مقام صدر کا کہنا ہے کہ ملک کے مشرقی علاقوں میں جاری ’انسدادِ دہشتگردی‘ کی کارروائیوں کے دوران کئی روس نواز باغیوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ تاہم اپنے بیان میں صدر کا کہنا ہے کہ سلوویانسک کے شہر میں جاری کارروائی اس تیز رفتاری کے ساتھ نہیں ہو رہی جس کی توقع تھی۔

الیگزینڈر ٹرچی کا کہنا ہے کہ باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں ’شدید پیچیدگیاں‘ آڑے آ رہی ہیں کیونکہ مشرقی یوکرین میں جاری یہ آپریشن زیادہ آبادی والے علاقوں میں کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل یوکرین کے مشرقی علاقوں میں جاری کارروائیوں میں روس کے حامی باغیوں نے یوکرین کے دو فوجی ہیلی کاپٹر مار گرائے ہیں۔

یوکرینی فوج کا کہنا ہے کہ سلوویانسک میں پیش آنے والے ان واقعات میں ایک پائلٹ اور ایک فوجی ہلاک ہوا ہے جبکہ باغیوں کی نو چوکیوں پر قبضہ کیا گیا ہے۔

مشرقی یوکرین میں فوج بےبس ہے: تورچینوف

تاہم شہر میں تین چوکیوں پر موجود علیحدگی پسندوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ابھی شہر کا کنٹرول ان کے پاس ہی ہے۔

روس نے کہا ہے کہ یوکرینی حکومت کے اقدامات نے بحران کے حل کے لیے جنیوا میں گذشتہ ماہ طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد کی ’آخری امید بھی ختم کر دی ہے۔‘

جمعرات کو روسی وزارتِ خارجہ نے متنبہ کیا تھا کہ خطے میں یوکرینی افواج کی کارروائی کے ’تباہ کن نتائج‘ سامنے آئیں گے۔

سلوویانسک مشرقی یوکرین میں روس نواز گروہوں کا گڑھ ہے جو کہ اس علاقے میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کر رہے ہیں۔

یوکرین کے وزیرِ داخلہ آرسین آواکوو نے کہا ہے کہ عبوری حکومت سلوویانسک میں روس نواز علیحدگی پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سرکاری فوج نے شہر کا محاصرہ کر رکھا ہے اور اس آپریشن میں بھاری ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔

روس نواز باغیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے یوکرین کے دو ہیلی کاپٹر مار گرائے ہیں۔ وزیرِ داخلہ نے بھی ہیلی کاپٹروں کی تباہی اور پائلٹ سمیت دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

روسی ٹی وی نے کہا ہے کہ سلوویانسک پر حملہ کیا جا رہا ہے تاہم علیحدگی پسندوں اور شہریوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شہر پرسکون ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق علاقے میں فائرنگ، دھماکوں اور فوجی ہیلی کاپٹر کی کارروائی کی آواز سنائی دے رہی ہے۔

تاہم بی بی سی کی سارا رینزفورڈ نے علاقے میں موجود باغیوں سے بات کی ہے جن کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں کوئی لڑائی نہیں ہو رہی۔

اس سے پہلے یوکرین کے عبوری صدر اولیکسیندر تورچینوف نے ملک کے مشرقی علاقوں میں جاری کشیدگی کے حل کے لیے فوج کے استعمال کا اعلان کیا تھا۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت سامنے آیا جب روس حامی باغیوں نے دونیتسک شہر میں مقامی استغاثہ کے دفتر پر قبضہ کر لیا، اس کے علاوہ بھی گذشتہ چند ہفتوں میں متعدد سرکاری دفاتر پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔

باغی عمارت میں زبر دستی داخل ہوئے اور انھوں نے پولیس اہلکاروں سے ان کے ہتھیار اور ڈھالیں چھین لیں۔ اس کے بعد انھوں نے عمارت پر دونیتسک پیپلز رپبلک کا جھنڈا لہرایا۔

یوکرین کی حکوممت کا الزام ہے کہ روس مشرقی یوکرین میں حالات کشیدہ کرنے میں باغیوں کی مدد کر رہا ہے تاہم روس اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بدھ کو ورلوکا نامی شہر میں مسلح افراد نے پولیس کے دفتر اور ٹاؤن ہال پر قبضہ کیا

یوکرین کی سرحد پر تقریباً 40000 روسی فوجی تعینات ہیں۔ تاہم روس کہتا رہا ہے کہ اس کا مشرقی یوکرین میں فوجیں بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

روسی صدر ولادی میر پوتن بھی اصرار کرتے رہے ہیں کہ ’نہ تو روسی تربیت کار نہ ہی روسی خصوصی فوج کے دستے‘ یوکرین میں موجود ہیں۔

خیال رہے کہ مشرقی یوکرین میں روسی زبان بولنے والوں کی اکثریت ہے اور وہ ملک کے سابق روس نواز صدر وکٹر یانوکووچ کے حامی ہیں۔

بدھ کو یوکرین کے عبوری صدر نے کہا تھا کہ ان کی فوج مشرقی علاقوں میں کچھ مقامات پر بغاوت کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے اور اب آپریشن کا مقصد اس کشیدگی کو پھیلنے سے روکنا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یوکرین مکمل طور پر فوجی تیاری کر چکا ہے۔ بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ روس یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے۔

یوکرین میں روسی زبان بولنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے اور روس حامی سابق صدر وکٹر یانوکووچ کو فروری میں مغربی ممالک کے حامی فوجیوں نے برطرف کر دیا تھا۔

روس میں بعد میں روسی زبان بولنے والے افراد کی اکثریت والے علاقے نیم خود مختار کرائمیا کی پارلیمان کی مدد سے علاقے کے روس سے الحاق کا اعلان کیا تھا جس پر عالمی برادری نے تشویس کا اظہار کیا تھا۔

اس تنازعے کی وجہ سے مغربی ممالک اور روس کے تعلقات سرد جنگ کے بعد سے بری ترین سطح پر ہیں۔

اسی بارے میں