سزائےموت کے طریقہ کار پر نظرثانی کی جائے: اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کلیٹن لاکٹ کو موت کی سزا دیے جانے کے دوران پیدا ہونے والی صورت حال پر اوباما نے سخت پریشانی کا اظہار کیا

امریکی صدر براک اوباما اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر سے سزائے موت دیے جانے کے طریقہ کار میں پائے جانے والی پیچیدگیوں کی تحقیقات کرنے کی درخواست کرنے کا ارادا رکھتے ہیں۔

صدر اوبامہ کی طرف سے سزاے موت پر نظرِ ثانی کرنے کا فیصلہ اوکلاہوما میں ایک مجرم کو موت کی سزا دیے جانے کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدہ صورت حال کے چند دنوں بعد سامنے آیا ہے۔ امریکی ریاست اوکلاہوما میں اس سزاے موت کی تفصیلات کے منظر عام پر آنے کے بعد ملک میں اس بارے میں ایک بحث چھڑ گئی ہے۔

اسی ہفتے قتل کے ایک مجرم مکین کلیٹن لاکٹ کو غلط طریقے سے مہلک انجکشن لگانے اور طویل اذیت کے بعد موت کا سامنا کرنے پر اوباما نےشدید پریشانی کا اظہار کیا۔ صدر اوباما نے یہ بھی کہا کہ وہ سزائے موت کے حوالے سے ایک مخمصے کا شکار ہیں۔

صدر اوباما نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ اوکلاہوما میں صورتحال کچھ اہم مسائل کو اجاگر کرتی ہے۔ امریکیوں کو ان مسائل کے بارے میں کچھ پیچدہ اور مشکل سوال پوچھنے چاہیں۔‘

وکیل کے طور پر تربیت یافتہ براک اوباما نے یہ بھی کہا کہ بعض صورتوں میں سزائے موت جائز ہے خصوصاً عورتوں اوربچوں کے قتل کے مقدمات میں لیکن امریکہ میں اس پر عملدرآمد مسائل کا باعث بن رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان میں نسلی تعصب اور ممکنہ بریت کے معاملے بھی شامل ہیں۔

اوباما نے مزید کہا کہ وہ اٹارنی جنرل ہولڈر کو یہ کام سونپ رہے ہیں کہ وہ نہ صرف اس کیس کے بارے میں بلکہ پورے معاملے کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کا تجزیہ پیش کریں۔

اوکلاہوما میں جیل حکام نے رگ نہ ملنے پر لاکٹ کی ٹانگوں کے اوپر والے حصے میں مہلک ٹیکا لگایا تھا۔ لاکٹ پھانسی کے 10 منٹ بعد دل کے دورے سے ہلاک ہو گئے۔

کلیٹن لاکٹ کو موت کی سزا سنائی گئی تھی جب سنہ 1999 میں انھوں نے ایک 19 سالہ لڑکی کوگولی ماری اور اس کو زندہ دفن ہوتے دیکھا۔

لاکٹ کی پھانسی کے وقت پیدا ہونے والی صورت ایک وسیع بحث کا حصہ بن گئی ہے جس میں تین مہلک دوائیں کے استعمال کرنے کے طریقہ کار کو امریکی آئین سے متصادم قرار دیا جا رہا ہے۔

یورپی دواسازی کی فرموں کی طرف سے پاپندیوں کے نتیجے میں امریکہ کو مہلک انجیکشن کے لیے ادویات حاصل کرنے میں اضافانہ طور پر مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

اسی بارے میں