نائجیریا: مغوی طالبات کو بیچنے کی دھمکی

ابو بکر شیخاؤ تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ویڈی میں ابوبکر شیکاؤ یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ لڑکیوں کو انھوں نے اغوا کیا ہے

نائجیریائی اسلامی شدت پسند گروہ ’بوکوحرام‘ نے دھمکی دی ہے کہ وہ تین ہفتے قبل اغوا کی جانے والی سکول کی طالبات کو فروخت کر دیں گے۔

وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ’خدا نے مجھے ہدایت دی ہے کہ انھیں (لڑکیوں کو) فروخت کر دوں، وہ اُس (خدا) کی ملکیت ہیں۔ اور میں اُس (خدا) کی ہدایات پر عمل کروں گا۔‘

شدت پسند رہنما ابوبکر شیکاؤ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بھیجی جانے والی ایک ویڈیو میں کہا ہے کہ ان کے گروہ نے پہلی بار لڑکیوں کو اغوا کیا ہے۔

اس سے پہلے اسی ویڈیو کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ بوکو حرام نے گذشتہ ماہ سینکڑوں طالبات کو اغوا کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

اغوا کی اس واردات کے بعد 230 کے لگ بھگ طالبات لاپتہ بتائی جاتی ہیں اور اس کے لیے نائجیریا کی حکومت شدید تنقید کی زد میں ہے۔

اسی ویڈیو میں بوکو حرام کے رہنما ابوبکر شیکاؤ یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ ’لڑکیوں کو میں نے اغوا کیا ہے۔‘

مذکورہ ویڈیو میں ابو بکر شیکاؤ یہ اصرار کر رہے ہیں کہ لڑکیوں کو سکول جانا ہی نہیں چاہیے، اور سکول بھیجنے کی بجائے ان کی شادیاں ہونی چاہیں۔

تاہم بی بی سی ہاؤسا سروس کے ایڈیٹرمنصور لیمان نے اس پہلو کی نشاندہی کی ہے کہ بوکو حرام کے رہنما نے نہ تو مغوی لڑکیوں کی تعداد کے بارے میں کچھ کہا ہے اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ وہ کہاں لے جائی گئی ہیں اور کہاں رکھی گئی ہیں۔

اس سے قبل نائجیریا کے صدر گڈ لک جوناتھن نے اعتراف کیا تھا کہ سکیورٹی فورسز کو ابھی تک معلوم نہیں کہ گذشتہ ہفتے اغوا کی گئی 200 سے زیادہ لڑکیاں کہاں ہیں۔

ان لڑکیوں کو تین ہفتے قبل ریاست برونو کے چیبوک شہر میں ایک سکول پر حملے کے بعد اغوا کیا گیا تھا جن کی بازیابی کے لیے گذشتہ ہفتے مظاہرے بھی ہوئے تھے۔

مغویوں کی بازیابی کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر شدید تنقید ہوئی ہے اور اغوا کے اس واقعے کے بعد پہلی دفعہ صدر گڈ لک جوناتھن نے اس معاملے پر بات کی ہے۔

اس معاملے پر پہلے بات نہ کرنے کی وجہ سے صدر تنقید کی زد میں رہے تھے اور ان کی حکومت کو بڑھتے ہوئے عوامی غم و غصے کا سامنا ہے۔

صدر نے ٹی وی پر براہ راست کہا کہ ’ہم وعدہ کرتے ہیں کہ لڑکیاں جہاں کہیں بھی ہوں ہم انھیں ڈھونڈ نکالیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ فوج اور فضائیہ کی طرف سے تلاش کے باوجود لڑکیاں ابھی تک نہیں ملیں۔ انھوں نے والدین اور مقامی برادریوں سے تلاش میں حکومت کے ساتھ تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت کو مدد کی ضرورت ہے۔‘

صدر گڈ لک جوناتھن نے کہا کہ ’یہ ملک کے لیے مشکل وقت ہے جو بہت تکلیف دہ ہے۔‘

ابوجا میں بی بی سی کے نامہ نگار ویل راس نے کہا کہ یہ بات حیران کن لگتی ہے کہ لڑکیاں تب بھی نہیں ملی جب یہ خبریں آ رہی ہیں کہ انھیں گاڑیوں کے کاروان میں اِدھر اْدھر منتقل کیا جاتا رہا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اس سے لگتا ہے کہ ملک کے شمال مشرقی علاقے کم و بیش سرکاری فوج کی عمل داری سے باہر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption طالبات کے لاپتہ ہونے نائجیریا کی حکومت شدید تنقید کی زد میں ہے

چیبوک شہر میں ایک سکول پر حملے کے بعد طالبات کے اغوا کا ذمہ دار اسلامی شدت پسند تنظیم بوکو حرام کو قرار دیا جا رہا ہے۔ مقامی زبان میں اس تنظیم کے نام کا مطلب ہی ’مغربی تعلیم حرام‘ ہے۔ اس تنظیم پر الزام ہے کہ صرف رواں برس میں اس کی جانب سے کیے گئے حملوں میں اب تک 1500 لوگ مارے جا چکے ہیں۔

صدر گڈ لک جوناتھن نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی کہ مغویوں کی بازیابی کے لیے بات چیت ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بوکو حرام سے بات کرنا ناممکن ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے امریکہ، فرانس، برطانیہ اور چین سے ملک کے سکیورٹی معاملات میں مدد دینے کے لیے بات کی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز طالبات کی تلاش کر رہی ہیں تاہم ناقدین نے ان کوششوں کو ناکافی قرار دیا ہے۔

طالبات سکول کے سالانہ امتحان میں شرکت کرنے والی تھیں اور ان کی عمریں 16 سے 18 سال کے درمیان ہیں۔

مئی سنہ 2013 میں جاری کی گئی ایک ویڈیو میں بوکو حرام کے رہنما ابوبکر شیکاؤ نے دھمکی دی تھی کہ وہ خواتین اور بچیوں کو پکڑ کر غلام بنائیں گے۔

اسی بارے میں