نائجیریا سے مزید آٹھ لڑکیاں اغوا

تصویر کے کاپی رائٹ na
Image caption والدین کو اپنے اغوا بیٹیوں کے بارے میں کوئی خبر نہیں ملی۔

نائجیریا کے شمالی علاقے میں اسلامی شدت پسند گروپ ’بوکوحرام‘ کے ارکان نے مبینہ طور پر مزید آٹھ لڑکیوں کو اغوا کر لیا۔

حکام کے مطابق اغوا کا تازہ واقعہ اتوار کی رات ریاست بورنو کے گاؤں وارابے میں پیش آیا۔اغوا ہونے والی لڑکیوں کی عمریں 12 سے 15 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اغوا کی گئی لڑکیاں جن کی عمریں 16 سے 18 سال کے درمیان ہیں۔

اس سے پہلے پیر کو بوکو حرام کے سربراہ نے ان سینکڑوں مغوی لڑکیوں کو ’بیچنے‘ کی دھمکی دی تھی جنھیں بورنو کے ایک سکول سے 14 اپریل کو اغوا کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ سنہ 2009 سے بوکو حرام کے شدت پسندوں کی جانب سے شروع کی جانے والی بغاوت کے نتیجے میں نائجیریا میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ابوجا میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جس جگہ سے ان لڑکیوں کو اغوا کیا گیا وہ اسلامی شدت پسندوں کا مضبوط گڑھ ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں مواصلات کا نظام بہت کمزور ہے جس کی وجہ سے ان اطلاعات کے سامنے آنے میں کافی وقت لگتا ہے۔

بوکو حرام نے ہی تین ہفتے قبل غائب ہونے والی سینکڑوں طالبات کے اغوا کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔ اغوا کی اس واردات میں 230 کے لگ بھگ طالبات لاپتہ ہوئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption لڑکیوں کے اغوا کے تازہ واقعے کے لیے بھی بوکوحرام کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے

’بوکوحرام‘ کے سربراہ ابوبکر شیکاؤ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بھیجی جانے والی ایک ویڈیو میں کہا تھا کہ ان کے گروہ نے پہلی بار لڑکیوں کو اغوا کیا ہے۔

انھوں نے دھمکی دی تھی کہ وہ مغوی طالبات کو فروخت کر دیں گے: ’خدا نے مجھے ہدایت دی ہے کہ انھیں (لڑکیوں کو) فروخت کر دوں، وہ اُس (خدا) کی ملکیت ہیں۔ اور میں اُس (خدا) کی ہدایات پر عمل کروں گا۔‘

مذکورہ ویڈیو میں ابوبکر شیکاؤ یہ اصرار کر رہے ہیں کہ لڑکیوں کو سکول جانا ہی نہیں چاہیے، اور سکول بھیجنے کی بجائے ان کی شادیاں ہونی چاہیں۔

ان مغوی لڑکیوں کی بازیابی کے لیے گذشتہ ہفتے مظاہرے بھی ہوئے تھے۔

مغویوں کی بازیابی کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر شدید تنقید ہوئی ہے اور اغوا کے اس واقعے کے بعد پہلی دفعہ پیر کو صدر گڈ لک جوناتھن نے اس معاملے پر بات کی تھی۔

اس معاملے پر پہلے بات نہ کرنے کی وجہ سے صدر تنقید کی زد میں رہے تھے اور ان کی حکومت کو بڑھتے ہوئے عوامی غم و غصے کا سامنا ہے۔

صدر نے ٹی وی پر براہ راست کہا کہ ’ہم وعدہ کرتے ہیں کہ لڑکیاں جہاں کہیں بھی ہوں ہم انھیں ڈھونڈ نکالیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ فوج اور فضائیہ کی طرف سے تلاش کے باوجود لڑکیاں ابھی تک نہیں ملیں۔ انھوں نے والدین اور مقامی برادریوں سے تلاش میں حکومت کے ساتھ تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت کو مدد کی ضرورت ہے۔‘

صدر گڈ لک جوناتھن نے کہا کہ ’یہ ملک کے لیے مشکل وقت ہے جو بہت تکلیف دہ ہے۔‘ گڈ لک جوناتھن نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی کہ مغویوں کی بازیابی کے لیے بات چیت ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بوکو حرام سے بات کرنا ناممکن ہے۔

اسی بارے میں