بل کلنٹن کے ساتھ تعلقات پر افسوس: مونیکا لیونسکی

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption ۔۔۔لیونسکی اب آن لائن شرمندہ ہونے والے اور جنسی طور پر استحصال کے شکار متاثرین کے لیے کام کرنا چاہتی ہیں

مونیکا لیونسکی کے ساتھ افیئر کی وجہ سے اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کو زبردست سیاسی مخالفت اور مواخذے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

وینٹی فیئر نامی ایک میگزین میں شائع ہونے والے مضمون میں مونیکا لیونسكي نے بل کلنٹن کے ساتھ اپنے جنسی روابط پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

لیونسکی نے بل کلنٹن کے ساتھ تعلقات کو اپنی مرضی کے خلاف بتاتے ہوئے کہا ہے کہ صدر نے میرا فائدہ اٹھایا۔

1998 میں رپبلکن پارٹی نے مونیکا لیونسكي کے ساتھ بل کلنٹن کے جنسی رشتے کو ایک بڑا مسئلہ بنا کر انھیں صدر کے عہدے سے ہٹانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ اس میں ناکام رہے۔

لیکن اب جبکہ بل کلنٹن کی اہلیہ ہلیری کلنٹن 2016 میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل ہیں، لیونسکی کا معاملہ ایک بار پھر سے امریکہ میں سیاسی بحث کا موضوع بن گيا ہے۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ شاید رپبلکنز اس پرانے معاملے کو ہلیری کلنٹن کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption 1998 میں اس سکینڈل کے سامنے آنے کے بعد انھیں بدنامی اور استحصال سے گزرنا پڑا: لیونسكي

وینٹی فیئر میگزین نے لیونسکی کے مضمون کے جو اقتباسات جاری کیے ہیں اس میں لیونسکی کہتی ہیں کہ وہ اپنی اس کہانی کو دوبارہ عوام کے سامنے لانا چاہتی ہیں۔ ان کے مطابق انھیں آج بھی امریکہ میں جانا پہچانا جاتا ہے اور وہ میڈیا پر اپنا نام دیکھتی رہتی ہیں۔

وہ لکھتی ہیں: ’میرے اور صدر کلنٹن کے درمیان جو کچھ بھی ہوا، مجھے اس پر گہرا افسوس ہے۔ میں دوبارہ یہ بات کہتی ہوں، جو کچھ بھی ہوا مجھے اس پر بہت افسوس ہے۔‘

لیونسکی نے لکھا ہے کہ 1998 میں اس سکینڈل کے سامنے آنے کے بعد انھیں بدنامی اور استحصال سے گزرنا پڑا۔ لیونسکی کا کہنا ہے کہ صدر کلنٹن کو بچانے کے لیے انھیں قربانی کا بکرا بنا دیا گیا۔

لیونسكي لکھتی ہیں کہ’ کلنٹن انتظامیہ، خاص کر استغاثہ کے چمچے، حکمران اور اپوزیشن کے سیاسی کارکن اور میڈیا میری ایک شبیہ بنانے میں کامیاب ہوئے اور وہی شبیہ چلتی رہی کیونکہ اس پر اقتدار کی طاقتوں کا رنگ چڑھا دیا گیا تھا۔‘

اس واقعے کے بعد مونیکا لیونسکی کو کافی مشکلات سے گزرنا پڑا۔ صدر کلنٹن کی انتظامیہ کی ملازمت چھوڑنے کے بعد مونیکا نے کچھ دنوں تک ہینڈ بیگ ڈیزائنر کے طور پر کام کیا۔ پھر انھوں نے ایک ريئلٹي ڈیٹنگ شو کی میزبان کے طور پر بھی کام کیا۔

اس کے بعد وہ گریجویشن کرنے لندن چلی گئیں۔ مونیکا تسلیم کرتی ہیں کہ ان کے ماضی کی وجہ سے انھیں امریکہ میں ملازمت ملنے میں بہت مشکلات پیش آئیں۔

بل کلنٹن سے تعلقات کے وقت مونیکا لیونسکی کی عمر تقریباً 23 برس تھی۔

رپبلکن پارٹی نے بل کلنٹن پر مونیکا لیونسكي کے ساتھ جنسی تعلقات کےحوالے سے وفاقی تفتیش کاروں سے جھوٹ بولنے کا الزام لگایا تھا۔ اسی الزام میں رپبلکن پارٹی نے کلنٹن کے خلاف مواخذہ بھی شروع کیا لیکن وہ ناکام رہے۔ بل کلنٹن نے اپنے عہدہ صدارت کی مدت مکمل کی اور وہ سنہ 2000 تک امریکہ کے صدر رہے۔

اس دوران ہلیری کلنٹن سینیٹر منتخب ہوئیں اور صدر براک اوباما کے دور میں وزیر خارجہ بھی رہیں۔ ہلیری کو فی الحال 2016 کے صدارتی انتخاب کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے ممکنہ دعویدار سمجھا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے مونیکا لیونسکی سے اپنے تعلقات کو ایک ’خوفناک اخلاقی غلطی‘ قرار دیا تھا

ادھر رپبلکن پارٹی کے ممکنہ صدارتی امیدوار سینیٹر رینڈ پال نے کچھ دنوں پہلے کہا تھا: ’باس کو اپنے دفتر کی نوجوان ملازماؤں کا استحصال نہیں کرنا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بل کلنٹن نے اپنے دفتر میں کام کرنے والی ایک 20 سالہ انٹرن سے فائدہ اٹھایا۔ اس پر کوئی بہانے بازی نہیں چلے گی، یہ جارحانہ طرز عمل ہے۔‘

اپنے مضمون میں لیونسکی نے لکھا ہے کہ اتنے برسوں بعد وہ اپنی خاموشی اس لیے توڑ رہی ہیں کہ اپنے ماضی کو کوئی مقصد دے سکیں۔

وہ لکھتی ہیں: ’اپنی کہانی بیان کر کے مجھے لگتا ہے کہ شاید میں شرمندگی کے دور سے گزرنے والے لوگوں کی مدد کر سکوں۔‘

لیونسکی اب آن لائن شرمندہ ہونے والے اور جنسی طور پر استحصال کے شکار متاثرین کے لیے کام کرنا چاہتی ہیں۔ وہ ان موضوعات پر عوامی فورم پر آواز اٹھانا چاہتی ہیں۔