جنوبی افریقہ میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تقریباً دو کروڑ 50 لاکھ ووٹروں کا اندراج ہو چکا ہے جو ملک کی آبادی کا تقریباً آدھا حصہ ہے

جنوبی افریقہ میں نسل پرستوں کی حکومت کے ختم ہونے کے 20 سال بعد ملک میں پانچویں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔

حکمران جماعت افریقین نیشنل کانگریس(اے این ایف) کی جیت کی طرف اشارے کیے جا رہے جس کی رو سے صدر جیکب زوما آئندہ پانچ سال کے لیے ملک کے دوبارہ صدر بن سکتے ہیں۔

لیکن یہ بھی امکان ہے کہ بے روزگاری اور بدعنوانی کے الزامات کے خدشات کی وجہ سے اے این ایف ہار بھی سکتی ہے۔

انتخابی تیاریوں کے دوران مظاہرے ہوتے رہے جس کی وجہ سے سکیورٹی کو بڑھانے کے لیے فوج تعینات کی گئی ہے۔

ملک کے مختلف علاقوں میں سکولوں، عبادت گاہوں، قبائلی حکام کے دفاتر ہسپتالوں اور موبائل ووٹنگ سینٹر میں 22 ہزار پولنگ سٹیشن بنائے گئے ہیں۔

تقریباً دو کروڑ 50 لاکھ ووٹروں کا اندراج ہو چکا ہے جو ملک کی آبادی کا تقریباً آدھا حصہ ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہر پولنگ سٹیشن پر سکیورٹی کے لیے کم از کم ایک اہلکار تعینات ہو گا۔

منگل کو جوہانس برگ کے جنوب مغرب میں واقع بکرسدال قصبے میں فسادات ہوئے تھے جہاں بعض عارضی پولنگ سٹیشنوں کو جلایا گیا تھا۔

ووٹنگ کے لیے پولنگ مقامی وقت کے مطابق سات بجے شروع ہونے کے بعد 14 گھنٹے تک جاری رہے گی۔جمعے سے پہلے انتخابات کے مکمل نتائج آنے کے امکانات نہیں ہیں۔

بدھ کو ہونے والے انتخابات اس لیے بھی اہم ہیں کہ یہ پہلی دفعہ ہوگا کہ ملک میں نسل پرست حکومت ختم ہونے کے بعد پیدا ہونے والے افراد بھی اس میں ووٹ ڈالنے کا حق رکھتے ہیں۔ مصبرین کا خیال ہے کہ انتخابات کے نتائج کا زیادہ انحصار ان افراد کے ووٹ ڈالنے کے فیصلے پر بھی ہو سکتا ہے۔

عوامی جائزوں کے مطابق بہت سے لوگ ملک کے رہنماووں سے خوش نہیں ہے اور وہ حزب مخالف کی جماعت ڈیموکریٹک الائنس کی، جس کی سربراہی ہیلن زیلا کر رہے ہیں، حمایت کرنے کے لیے تیار ہیں یا وہ اے این سی کے نوجوانوں کے سابق رہنما کی جماعت ایکمنامک فریڈم پارٹی جولیئس مالیما کی حمایت کریں گے۔

اسی بارے میں