حمص سے باغیوں کا انخلا جاری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دو بسیں متعدد مسلح جنگجوؤں کو لے کر ملک کے شمال میں واقع باغیوں کے زیرِاثر علاقے میں پہنچیں

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے باغیوں کے آخری مضبوط گڑھ حمص سے ان کا انخلا جاری ہے۔

اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت بدھ کو پہلی بسیں پرانے شہر سے چلی گئیں۔

دو بسیں متعدد مسلح جنگجوؤں کو لے کر ملک کے شمال میں واقع باغیوں کے زیرِاثر علاقے میں پہنچیں۔

رواں برس کے شروع میں اقوامِ متحدہ اور ہلالِ احمر کی نگرانی میں ہونے والے ایک آپریشن میں 1,400 افراد کو پرانے شہر سے نکالا گیا تھا۔

بیروت میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار پال وڈ کا کہنا ہے کہ حمص کو چھوڑنے پر باغی جنگجو اور ان کے خاندان کے افراد اداس ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسی جگہ کو الوداع کہہ رہے ہیں جس کے بارے میں انھوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ یہاں سے نہیں جائیں گے۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حکومتی افواج کی جانب سے کیے جانے والے محاصرے کے دو سال بعد بالآخر باغی پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں جاری جنگ میں اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

خیال رہے کہ شامی افواج نے حالیہ مہینوں میں حمص کے پرانے شہر کا سخت محاصرہ کیا تھا جس کے دوران وہاں شدید گولہ باری اور فضائی حملے بھی کیے گئے۔

ایک کارکن نے بی بی سی کو سکائپ کے ذریعے بتایا کہ دنیا نے ہمیں مایوس کیا ہے۔

حمص میں بدھ کی صبح ایک تصویر آن لائن جاری کی گئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سبز رنگ کی دو بسیں باغی جنگجوؤں کے علاقے سے انخلا کے مقام کی جانب بڑھ رہی ہیں۔

باغیوں کے مذاکرات کار رہنما عبدالحارث الخالدی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ تین بسوں 120 افراد کو لے کر روانہ ہوئیں جن میں زخمی، شام شہری اور جنگجو شامل تھے۔

ادھر حمص کے گورنر طلال البرازی نے بی بی سی کو بتایا کہ انخلا کا آپریشن بدھ کو ختم ہو جائے گا۔

شام کی سرکاری نیوز ایجنسی صنعا نے حمص کے گورنر کے حوالے سے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق دو ہزار افراد کو حمص سے نکالا جائے گا تاہم ایک مقامی کارکن ابو یٰسین الحمصی نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ انخلا میں 1,200 جنگجوؤں کے نکالے جانے کا امکان ہے۔

دوسری جانب باغیوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملک کے شمالی حصوں میں بیرونی امداد آنے کی اجازت دے دی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں ہونے والے اس معاہدے کو مہینوں کی گفت و شنید کے بعد منظور کیا گیا تھا اور اطلاعات کے مطابق اس میں شام کے شہر حلب سے بھی یرغمالیوں کو نکالا جائے گا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں جاری جنگ میں اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ 17 لاکھ سے زیادہ افراد پڑوسی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہو‌ئے ہیں۔

اسی بارے میں