’ابو حمزہ نے خفیہ طور پر ایم آئی5 کے لیے کام کیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ابو حمزہ کے وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ مصر میں پیدا ہونے والے مبلغ کو ’لندن کی سڑکوں کو محفوظ رکھنے‘ کا کام سونھا گیا تھا

شدت پسند مسلم مبلغ ابو حمزہ المصری کے وکیل نے امریکہ میں جاری مقدمے کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ ان کے موکل نے خفیہ طور پر برطانوی ایجنسی ایم آئی5 کے لیے کام کیا تھا۔

وکیل دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ مصر میں پیدا ہونے والے مبلغ کو ’لندن کی سڑکوں کو محفوظ رکھنے‘ کا کام سونپا گیا تھا۔

واضح رہے کہ امریکہ میں ابوحمزہ کے خلاف مقدمے کی سماعت جاری ہے اور انھوں نے دہشت گردی کے 11 الزامات کی تردید کی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے سنہ 1998 میں یمن میں مغربی سیاحوں کے اغوا اور امریکی ریاست اوریگن میں جہادی تربیتی کیمپ قائم کرنے میں تعاون کیا تھا، تو انھوں نے اس کے جواب میں ’کبھی نہیں‘ کہا۔

یاد رہے کہ برطانیہ نے ایک عدالتی فیصلے کے بعد ابو حمزہ المصری سمیت پانچ مشتبہ دہشت گردوں کو امریکہ کے حوالے کر دیا تھا۔

انھیں برطانیہ میں قتل کے لیے اکسانے اور شمالی لندن کی ایک مسجد سے اپنے خطبوں کے ذریعے نسلی منافرت پھیلانے کے الزام میں قید ہوئی تھی۔

ابوحمزہ نے کہا کہ انھوں نے کبھی بھی القاعدہ یا کسی دوسری عسکری تنظیم کی مدد نہیں کی ہے۔

اس سے قبل مین ہٹن کی وفاقی عدالت نے نیوزی لینڈ کی ایک گواہ کی شہادت لی۔ گواہ میری کوئن ان 16 سیاحوں میں شامل تھیں جن کو یمن میں یرغمال بنایا گیا تھا۔

میری کوئن نے عدالت کو بتایا کہ ابو حمزہ اغوا کی اس کارروائی میں شامل تھے جس کے خلاف یمنی فوج کی کارروائی میں چار سیاح مارے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ap
Image caption ابو حمزہ برطانیہ میں پہلے ہی آٹھ سال قید میں گزار چکے ہیں

ابو حمزہ کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل نے صرف ثالث کا کردار ادا کیا تھا۔

شہادت دیتے ہوئے مدعا علیہ نے مصطفیٰ کمال مصطفیٰ کی کہانی سنائی جو ان کا پیدائشی نام تھا۔

انھوں نے کہا کہ اسلام کا جانثار پیروکار بننے سے قبل انھوں نے کس طرح ’اخلاقیات کے غلط سرے سے‘ اپنے کریئر کی ابتدا کی تھی جب وہ سوہو میں سٹرپ کلب چلاتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ انجینیئروں کی رائل سوسائٹی کے رکن ہوا کرتے تھے اور انھوں نے سینڈہرسٹ اکیڈمی میں بھی کام کیا ہے۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ یہ وہی فوجی اکیڈمی ہے جہاں پرنس ہنری اور دیگر شاہی افراد کو تربیت دی جاتی ہے۔

جیوری کی غیرحاضری میں ان کے وکیل نے بتایا کہ ابوحمزہ نے خفیہ طور پر ایم آئی5 کے لیے کام کیا ہے۔ اس سلسلے میں وہ سکاٹ لینڈ یارڈ کی دستاویزات شواہد کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں جس سے ان کے مطابق یہ ثابت ہوتا ہے کہ انھوں نے امن قائم کرنے اور یرغمالوں کی رہائی میں پولیس سے تعاون کیاتھا۔

تاہم جج نے ان شواہد کو ناقابلِ سماعت قرار دیا۔

ابو حمزہ برطانیہ میں پہلے ہی آٹھ سال قید میں گزار چکے ہیں۔ اگر امریکہ کی عدالت میں ان پر دہشت گردی میں تعاون کا الزام ثابت ہو جاتا ہے تو انھیں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں